سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لُزُومِ السُّنَّةِ
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4609]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو راہِ حق کی دعوت دے اسے اس قدر ثواب ہے جس قدر اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، ان اتباع کرنے والوں میں سے کسی کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے کسی گمراہی کی دعوت دی تو اسے اس قدر گناہ ہو گا جس قدر اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اس وجہ سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العلم 6 (2674)، سنن الترمذی/العلم 15 (2674)، (تحفة الأشراف: 13976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/397)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (530) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2674)
حدیث نمبر: 4610
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر حرام کر دی گئی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4610]
جناب عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں جرم کے اعتبار سے سب سے بڑا (مجرم) وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی بات کے بارے میں سوال کیا جو پہلے حرام نہ تھی، مگر اس کے سوال کرنے کے باعث حرام کر دی گئی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتصام 3 (7289)، صحیح مسلم/الفضائل 37 (2358)، (تحفة الأشراف: 3892)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/176، 179) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سوال دو طرح کا ہوتا ہے: ایک تو وہ جس کی ضرورت ہے اور معلوم نہیں تو آدمی کے جاننے کے لئے پوچھنا درست ہے، دوسرا وہ جس کی نہ حاجت ہے نہ ضرورت، آدمی بلا ضرورت یونہی خیالی و فرضی سوال کرے اور ناحق پریشان کرے، اور اس کے سوال کے سبب وہ حرام کر دی جائے، اس حدیث میں اسی قسم کے سوال کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے، آج کل بعض لوگ علماء سے یونہی بلا ضرورت یا بطور امتحان سوال کیا کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7289) صحيح مسلم (2358)
حدیث نمبر: 4611
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ عَائِذَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" كَانَ لَا يَجْلِسُ مَجْلِسًا لِلذِّكْرِ حِينَ يَجْلِسُ، إِلَّا قَالَ: اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ: مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ، فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ، وَأُحَذِّرُكُمْ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ عَلَى لِسَانِ الْحَكِيمِ، وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: مَا يُدْرِينِي رَحِمَكَ اللَّهُ؟ أَنَّ الْحَكِيمَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ، قَالَ: بَلَى اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَهِرَاتِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا مَا هَذِهِ، وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ فَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ، وَتَلَقَّ الْحَقَّ إِذَا سَمِعْتَهُ فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَعْمَرٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ مَكَانَ يُثْنِيَنَّكَ، وقَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا: الْمُشَبِّهَاتِ مَكَانَ الْمُشْتَهِرَاتِ، وَقَالَ: لَا يُثْنِيَنَّكَ، كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَى مَا تَشَابَهَ عَلَيْكَ مِنْ قَوْلِ الْحَكِيمِ حَتَّى تَقُولَ مَا أَرَادَ بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ.
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ (جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے: اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہو گئے تو ایک روز معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان (دنوں) میں مال کثرت سے ہو گا، قرآن آسان ہو جائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی حاصل کر لیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، وہ میری پیروی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی چیز نہ نکالوں، لہٰذا جو نئی چیز نکالی جائے تم اس سے بچو ۱؎ اس لیے کہ ہر وہ نئی چیز جو نکالی جائے گمراہی ہے، اور میں تمہیں حکیم و دانا کی گمراہی سے ڈراتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا: (اللہ آپ پر رحم کرے) مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات؟ وہ بولے: کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ (اپنی پہلی بات سے) پھر جائے اور حق پر آ جائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصے میں معمر نے زہری سے «ولا يثنينك ذلك عنه» کے بجائے «ولا ينئينك ذلك عنه» روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں «المشتهرات» کے بجائے «المشبهات» روایت کی ہے اور «ولا يثنينك» ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے: کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہو جائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے؟ (تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے) ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4611]
یزید بن عمیرہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے: ”اللہ عزوجل خوب عادل اور فیصلہ کرنے والا ہے، شک کرنے والے ہلاک ہو گئے۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کہا: ”تمہارے بعد بڑے فتنے ہوں گے۔ مال بہت بڑھ جائے گا اور قرآن کھول (عام کر) دیا جائے گا حتیٰ کہ مومن، منافق، مرد، عورتیں، چھوٹا، بڑا، غلام اور آزاد سبھی اسے حاصل کریں گے اور ایسا ہو گا کہ کہنے والا کہے گا: لوگوں کو کیا ہوا میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے؟ (وہ کہے گا) یہ لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے حتیٰ کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی اختراع کروں۔ چنانچہ تم اپنے آپ کو اس کی بدعت سے بچائے رکھنا، اس کی بدعت ضلالت اور گمراہی ہو گی۔ اور میں تمہیں دانا بندے کی ٹھوکر سے بھی ڈراتا ہوں۔ شیطان کبھی دانا بندے کی زبان سے گمراہی کا کوئی کلمہ نکلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی حق بات کہہ دیتا ہے۔“ (یزید کہتے ہیں) میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اللہ آپ پر رحم فرمائے! مجھے کیسے معلوم ہو کہ دانا آدمی گمراہی کا کلمہ کہہ جاتا ہے اور منافق حق کی بات کہہ دیتا ہے؟“ کہا کہ ”ہاں۔ دانا کی ایسی باتوں سے بچنا جو مشہور ہو جاتی ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ مگر یہ بات تمہارا اس سے رخ موڑ لینے کا باعث نہ بنے، ایسا (بھی تو) ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے رجوع کر لے، اور حق جس کسی سے بھی سنو قبول کر لو، بلاشبہ حق پر نور ہوتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معمر نے بواسطہ زہری اس روایت میں «يُثْنِيَنَّكَ» کی بجائے «وَلَا يَنْأَيَنَّكَ» ”یہ بات تجھے اس سے بے رخ نہ بنا دے۔“ کے لفظ روایت کیے ہیں۔ صالح بن کیسان نے زہری سے روایت کرتے ہوئے «مُشْتَهِرَاتِ» کی بجائے «الْمُشَبَّهَاتِ» کا لفظ روایت کیا اور ایسے ہی «لَا يُثْنِيَنَّكَ» کا لفظ روایت کیا جیسے کہ عقیل نے روایت کیا ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا: ”ہاں دانا کی جو بات تمہارے لیے شبہے کا باعث ہو حتیٰ کہ تم کہنے لگو نامعلوم اس نے اس کلمہ سے کیا مراد لیا ہے؟“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11369) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: جب وہ دیکھے گا کہ لوگ قرآن و سنت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور شیطان اور بدعت کے پیرو ہو رہے ہیں تو میں کیوں نہ کوئی بدعت ایجاد کروں، تو خبردار اس کی نکالی ہوئی بدعت سے بچتے رہو کیونکہ وہ گمراہی ہے۔
۲؎: آدمی اگر منصف اور حق پرست ہو تو اس پر باطل کی تاریکی و ظلمت کبھی نہیں چھپتی، معاذ رضی اللہ عنہ نے باطل کی نشانی یہ بیان کی کہ وہ قرآن وسنت میں نہ ہو، اور عقل سلیم بھی اس کو قبول نہ کرے، آپ نے عالم کے فتنے سے بھی ڈرایا کیونکہ عالم کا فتنہ بڑا سخت ہوتا ہے وہ جھوٹی باتوں، غلط استدلال اور چرب زبانی سے عوام کو فریفتہ کر لیتا ہے، آج یہی حال ہے، باطل پرست قرآن وسنت سے الگ ہٹ کر نئی نئی بدعتوں میں عوام کو پھنسائے ہوئے ہیں، اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے، اور لوگوں نے اپنے اپنے مولویوں کے ایجاد کئے ہوئے امور کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، فتنے کے وقت میں طالب حق کو چاہئے کہ قرآن کو دیکھے اور صحیح احادیث میں تلاش کرے اور فرقہ بندی سے دور رہے۔
۲؎: آدمی اگر منصف اور حق پرست ہو تو اس پر باطل کی تاریکی و ظلمت کبھی نہیں چھپتی، معاذ رضی اللہ عنہ نے باطل کی نشانی یہ بیان کی کہ وہ قرآن وسنت میں نہ ہو، اور عقل سلیم بھی اس کو قبول نہ کرے، آپ نے عالم کے فتنے سے بھی ڈرایا کیونکہ عالم کا فتنہ بڑا سخت ہوتا ہے وہ جھوٹی باتوں، غلط استدلال اور چرب زبانی سے عوام کو فریفتہ کر لیتا ہے، آج یہی حال ہے، باطل پرست قرآن وسنت سے الگ ہٹ کر نئی نئی بدعتوں میں عوام کو پھنسائے ہوئے ہیں، اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے، اور لوگوں نے اپنے اپنے مولویوں کے ایجاد کئے ہوئے امور کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، فتنے کے وقت میں طالب حق کو چاہئے کہ قرآن کو دیکھے اور صحیح احادیث میں تلاش کرے اور فرقہ بندی سے دور رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ. ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ دُلَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ النَّضْرِ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَمَعْنَاهُمْ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، فَكَتَبَ:" أَمَّا بَعْدُ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالِاقْتِصَادِ فِي أَمْرِهِ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ مَا أَحْدَثَ الْمُحْدِثُونَ بَعْدَ مَا جَرَتْ بِهِ سُنَّتُهُ وَكُفُوا مُؤْنَتَهُ، فَعَلَيْكَ بِلُزُومِ السُّنَّةِ فَإِنَّهَا لَكَ بِإِذْنِ اللَّهِ عِصْمَةٌ، ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَدِعِ النَّاسُ بِدْعَةً إِلَّا قَدْ مَضَى قَبْلَهَا مَا هُوَ دَلِيلٌ عَلَيْهَا أَوْ عِبْرَةٌ فِيهَا، فَإِنَّ السُّنَّةَ إِنَّمَا سَنَّهَا مَنْ قَدْ عَلِمَ مَا فِي خِلَافِهَا، وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ كَثِيرٍ: مَنْ قَدْ عَلِمَ مِنَ الْخَطَإِ وَالزَّلَلِ وَالْحُمْقِ وَالتَّعَمُّقِ فَارْضَ لِنَفْسِكَ مَا رَضِيَ بِهِ الْقَوْمُ لِأَنْفُسِهِمْ، فَإِنَّهُمْ عَلَى عِلْمٍ وَقَفُوا وَبِبَصَرٍ نَافِذٍ كَفُّوا وَهُمْ عَلَى كَشْفِ الْأُمُورِ كَانُوا أَقْوَى وَبِفَضْلِ مَا كَانُوا فِيهِ أَوْلَى، فَإِنْ كَانَ الْهُدَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَقَدْ سَبَقْتُمُوهُمْ إِلَيْهِ وَلَئِنْ قُلْتُمْ إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدَهُمْ مَا أَحْدَثَهُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَ غَيْرَ سَبِيلِهِمْ، وَرَغِبَ بِنَفْسِهِ عَنْهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمُ السَّابِقُونَ فَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ بِمَا يَكْفِي وَوَصَفُوا مِنْهُ مَا يَشْفِي، فَمَا دُونَهُمْ مِنْ مَقْصَرٍ وَمَا فَوْقَهُمْ مِنْ مَحْسَرٍ وَقَدْ قَصَّرَ قَوْمٌ دُونَهُمْ فَجَفَوْا، وَطَمَحَ عَنْهُمْ أَقْوَامٌ فَغَلَوْا وَإِنَّهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ، كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ فَعَلَى الْخَبِيرِ بِإِذْنِ اللَّهِ، وَقَعْتَ مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ، لَقَدْ كَانَ ذَكَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ، فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ، وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ لِمَ أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ كَذَا؟ لِمَ قَالَ كَذَا؟ لَقَدْ قَرَءُوا مِنْهُ مَا قَرَأْتُمْ وَعَلِمُوا مِنْ تَأْوِيلِهِ مَا جَهِلْتُمْ، وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ كُلِّهِ بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ وَمَا يُقْدَرْ يَكُنْ وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ثُمَّ رَغِبُوا بَعْدَ ذَلِكَ وَرَهِبُوا".
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، (اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں (ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم (سلف) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا (جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں)؟ تو (جان لو) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور بر ے کاموں سے ڈرتے رہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4612]
ابورجاء نے ابوصلت سے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، جس میں اس نے ان سے تقدیر کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے جواب لکھا: ”حمد و صلاۃ کے بعد، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رہو اور اللہ کے امر میں اعتدال سے کام لو۔ اللہ کے نبی کی سنت کا اتباع کرو اور بدعتیوں کی بدعات سے دور رہو بالخصوص جب امر دین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جاری ہو چکی اور اس میں لوگوں کی ضرورت پوری ہو چکی۔ سنت کو لازم پکڑو یقیناً یہی چیز «بِإِذْنِ اللّٰهِ» ”اللہ کے حکم سے“ تمہارے لیے (گمراہی سے) بچنے کا سبب ہو گی۔ یاد رکھو! لوگوں نے جس قدر بھی بدعات نکالی ہیں، ان سے پہلے وہ رہنمائی آ چکی جو ان (بدعات) کے خلاف دلیل ہے یا اس میں کوئی نہ کوئی عبرت ہے۔ بلاشبہ سنت اس مقدس ذات نے عطا فرمائی جنہیں علم تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا، راوی محمد بن کثیر نے «مَنْ قَدْ عَلِمَ» ”جس نے جان لیا“ کے لفظ روایت نہیں کیے۔ خطا، ٹھوکر اور حماقت اور (ہلاکت کی) کھائی ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو اس چیز پر راضی اور مطمئن رکھو جس پر قوم (صحابہ) راضی رہے ہیں، بلاشبہ وہ لوگ علم سے بہرہ ور تھے۔ (جن باتوں سے انہوں نے منع کیا) گہری بصیرت کی بنا پر منع کیا اور ان حقائق کی آگہی پر (جن سے تم بزعم خویش آگاہ ہوئے ہو) وہ لوگ زیادہ قادر تھے اور اپنے فضائل کی بنا پر اس کے زیادہ حقدار تھے۔ اگر حق و ہدایت یہی ہو جسے تم نے سمجھا ہے تو تم گویا ان سے سبقت لے گئے۔ اگر تم یہ کہو کہ یہ امور ان (صحابہ) کے بعد نئے ایجاد ہوئے ہیں تو ان کے ایجاد کرنے والے ان (صحابہ) کی راہ پر نہیں ہیں، بلکہ ان سے اعراض کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ وہ صحابہ ہی (حق اور نیکی میں) سبقت لے جانے والے تھے۔ انہوں نے ان امور میں جو بات کی وہی کافی ہے۔ جو بیان کیا اسی میں شفا ہے۔ چنانچہ ان سے کم تر پر رکنا کوتاہی (تفریط) ہے اور ان سے بڑھ کر توضیح کرنا زیادتی یا تھکاوٹ (افراط) ہے (ان کے طرز عمل سے کمی کرنا جائز ہے، نہ ان سے بڑھنا جائز) جنہوں نے کمی کی انہوں نے ظلم کیا اور جو آگے بڑھے انہوں نے غلو کیا۔ جبکہ وہ (صحابہ) ان کے بین بین (اصل) ہدایت اور راہ مستقیم پر تھے۔ تم نے تقدیر کے اقرار کے متعلق لکھ کر پوچھا ہے تو اللہ کے فضل سے تم نے ایک صاحب علم و خبر سے پوچھا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ لوگوں نے جتنی بھی نئی باتیں گھڑی ہیں اور جتنی بھی بدعات ایجاد کی ہیں ان میں تقدیر کے مسئلے سے بڑھ کر بھی کوئی مسئلہ واضح اور دلائل کی رو سے قوی تر ہو، اس کا ذکر تو قدیم ترین ایام جاہلیت میں بھی ہوتا تھا، لوگ اپنی گفتگو اور اپنے اشعار میں اس کا ذکر کرتے تھے، جو چیز انہیں حاصل نہ ہو پاتی تھی، تقدیر کا ذکر کر کے اس سے تسلی پاتے تھے۔ پھر اسلام نے ان کے بعد عقیدہ تقدیر کو مزید (واضح اور) مستحکم کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو نہیں، متعدد احادیث میں اس کا ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں نے آپ سے سن کر آپ کی زندگی میں اور آپ کے بعد بھی اس کے بارے میں گفتگو کی۔ جس میں اللہ رب العزت کے سامنے تسلیم و رضا اور اپنے عجز کا اعتراف کیا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس پر اللہ کا علم محیط نہ ہو، یا کتاب تقدیر میں اس کا شمار نہ ہو، یا اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہوئی ہو۔ ساتھ ہی یہ بات اس کی محکم کتاب (قرآن حکیم) میں بھی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس مسئلہ کو اسی سے اخذ کیا تھا اور یہیں سے وہ اس سے باخبر ہوئے۔ اگر تم کہو اللہ نے فلاں آیت کیوں نازل کی اور اس طرح کیوں کہا؟ تو (ذرا سوچو کہ) انہوں نے (یعنی صحابہ) بھی تو یہی آیات پڑھیں جو تم نے پڑھیں۔ البتہ وہ اس کی تفسیر و تاویل پا گئے جس سے تم جاہل رہے۔ اس کے بعد ان کا قول یہ ہے کہ: ”یہ سب اللہ کی طرف سے لکھا ہوا اور اس کی تقدیر سے ہے۔ شقاوت اور بدبختی بھی لکھی ہوئی ہے۔ جو کچھ مقدر ہے، ہو جاتا ہے۔ اللہ جو بھی چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ ہم اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔“ پھر (اسی اصل پر) وہ اللہ کی طرف راغب رہے اور اسی سے ڈرتے رہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19145) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے اس جواب سے بدعت اور سنت کی راہ بالکل واضح ہو گئی اور یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ کسی بھی عمل سے پہلے قرآن و سنت کو دیکھنا چاہئے، اگر ان میں نہ ملے تو صحابہ کرام اور تابعین عظام کو دیکھنا چاہئے کہ ان کا عمل اس پر تھا یا نہیں، اگر ہم اس معیار کو اختیار کر لیں تو اللہ کے فضل سے سارے اختلافات دور ہو جائیں اور بے شمار بدعات ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں، لیکن ہم نے بعد کے لوگوں کی روش کو اپنا رکھا ہے اور بدعات کی گرم بازاری میں مگن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الصلت وأبو رجاء مجھولان لم يثبت تعينھما بدليل قويوالثوري مدلسوعنعن عن النضر ابن عربي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
إسناده ضعيف
أبو الصلت وأبو رجاء مجھولان لم يثبت تعينھما بدليل قويوالثوري مدلسوعنعن عن النضر ابن عربي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
حدیث نمبر: 4613
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں (سلف کے قول کے خلاف) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4613]
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ شام میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا، جس کی ان سے خط کتابت رہتی تھی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو لکھا: ”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے تقدیر کے بارے میں کوئی باتیں کی ہیں۔ (تو تقدیر کو جھٹلاتا ہے) لہٰذا آئندہ کے لیے مجھے کوئی خط نہ لکھنا۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تحقیق میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہذا المتن أبوداود، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر 16 (2152)، سنن ابن ماجہ/الفتن 29 (4061)، بسیاق نحوہ ولفظہ: ''في ہذہ الأمة خسف ومسخ أو قذف في أہل القدر'' (تحفة الأشراف: 7651)، و مسند احمد (2/108، 136) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (106، 116)
أخرجه الترمذي (2152 وسنده حسن) وابن ماجه (4061 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (106، 116)
أخرجه الترمذي (2152 وسنده حسن) وابن ماجه (4061 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4614
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ:" قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا بَلْ لِلْأَرْضِ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ {162} إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ {163} سورة الصافات آية 162-163، قَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ".
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» ”شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو“ (الصافات: ۱۶۳) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: ”شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4614]
جناب خالد الحذاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا: ”ابو سعید! مجھے یہ بتائیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام آسمان کے لیے پیدا کیے گئے تھے یا زمین کے لیے؟“ انہوں نے کہا: ”زمین کے لیے۔“ میں نے کہا: ”کیا خیال ہے اگر وہ گناہ سے بچ جاتے اور درخت سے نہ کھاتے تو؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا (کیونکہ یہ مقدر تھا۔)“ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مفہوم ہے (جو جنات اور شیاطین کے متعلق فرمایا): ﴿مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 162-163] ”تم کسی کو اللہ کی طرف سے نہیں پھیر (بہکا) سکتے ہو، مگر اسے ہی جو جہنم میں پڑنے والا ہو۔“ انہوں نے کہا کہ ”شیاطین اپنی گمراہی سے صرف انہی کو گمراہ کرتے ہیں جن پر اللہ نے جہنم میں گرنا واجب کیا ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18517، 18518) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:" وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ سورة هود آية 119، قَالَ: خَلَقَ هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ".
حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» ”اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا“ (سورۃ ھود: ۱۱۹) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس (جنت) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس (جہنم) کے لیے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4615]
حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ﴾ [سورة هود: 119] ”اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا۔“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: ”انہیں پیدا کیا اس (جنت) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس (جہنم) کے لیے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18516) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: انہیں جنت کے لئے اور انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ: اگر اللہ نہ لکھتا تو جن کو جہنم کے لئے لکھا وہ اچھے اعمال کر کے جنت میں چلے جاتے وبالعکس، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جہنم کے لئے پیدا کیا اگر ان کی تقدیر میں کچھ نہ لکھتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ جنت میں چلے جاتے، یہ لوگ چونکہ برے اعمال ہی کرنے والے تھے جو اللہ کو معلوم تھا (کیونکہ اس کا علم ماضی مستقبل حال کے لئے یکساں ہے) اس لئے اس نے اپنے علم کی بنیاد پر لکھا ایسا نہیں کہ لکھنے سے یہ لوگ مجبور ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4616
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، قَالَ:" قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ {162} إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ {163} سورة الصافات آية 162-163، قَالَ: إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَنَّهُ يَصْلَى الْجَحِيمَ".
خالد الخداء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4616]
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے آیت کریمہ: ﴿مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ ٭ إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ﴾ [سورة الصافات: 162-163] (کی تفسیر) کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے لیے لازم کیا ہے جو جہنم میں جلنے والا ہوا۔“ (یہ مذکورہ بالا روایت 4614 کی مانند ہے۔) [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18518) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4617
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ: كَانَ الْحَسَنُ، يَقُولُ:" لَأَنْ يُسْقَطَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَقُولَ الْأَمْرُ بِيَدِي".
حمید کہتے ہیں کہ حسن بصری کہتے تھے: آسمان سے زمین پر گر پڑنا اس بات سے مجھے زیادہ عزیز ہے کہ میں کہوں: معاملہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4617]
جناب حمید سے منقول ہے کہ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ: ”آسمان سے زمین پر گر پڑنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں یوں کہوں کہ معاملہ میرے ہاتھ میں ہے۔“ (مقصد یہ ہے کہ تقدیر کا انکار مجھے ہرگز ہرگز گوارا نہیں) [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18510) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حسن بصری رحمہ اللہ نے یہ بات صاف کر دی کہ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں خیر و شر سب کا مالک و خالق وہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حميد الطويل عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
إسناده ضعيف
حميد الطويل عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
حدیث نمبر: 4618
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ، فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ، قَالَ الرَّجُلُ: قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ".
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4618]
جناب حمید نے بیان کیا کہ سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو وہاں کے علماء و فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے یہ کہوں کہ وہ ایک دن ہمیں وعظ سنائیں۔ تو انہوں نے قبول کر لیا۔ چنانچہ وہ جمع ہو گئے اور حسن بصری رضی اللہ عنہ نے درس دیا تو میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو خطیب نہ پایا۔ ایک آدمی نے پوچھا: ”ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا ہے؟“ وہ کہنے لگے: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، بھلا اللہ کے سوا بھی کوئی خالق ہے؟ اللہ ہی نے شیطان کو پیدا کیا ہے۔ خیر اور شر کا خالق وہی ہے۔“ تو وہ آدمی کہنے لگا: ”اللہ ان کو ہلاک کرے (نامعلوم) کس بنا پر وہ اس شیخ پر جھوٹ بولتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18509) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح