سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4636
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ يُونُسُ، وَشُعَيْبٌ، لَمْ يَذْكُرَا عَمْرَو بْنَ أَبَانَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے“۔ جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر (دین) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4636]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات ایک نیک بندے کو خواب دکھایا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے اٹھے تو ہم نے کہا: صالح آدمی تو وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ معلق کرنا، اس لیے کہ یہی لوگ اس امر کے ذمہ دار ہیں جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو یونس اور شعیب نے روایت کیا ہے، مگر ان دونوں نے سند میں عمرو (عمرو بن ابان) کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2502)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (ضعیف)» (اس کے راوی عمرو بن ابان لین الحدیث ہیں، نیز جابر رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع میں اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن ومع ذلك صححه الحاكم (71/3،72) ووافقه الذهبي(!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
الزهري عنعن ومع ذلك صححه الحاكم (71/3،72) ووافقه الذهبي(!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4636
| أري الليلة رجل صالح أن أبا بكر نيط برسول الله ونيط عمر بأبي بكر |
Sunan Abi Dawud Hadith 4636 in Urdu
يونس بن يزيد الأيلي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي