الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 4643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ، وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلَالًا، وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَام، وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ، فَيَقُولُ إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ: قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، فَوَاللَّهِ لَأَدَعَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الدَّابِرِ"، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِلْأَعْمَشِ، فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18851) (صحیح)» (یہ حجاج بن یوسف کا کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحجاج بن يوسف الثقفي، أبو محمد | ضعيف الحديث | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← الحجاج بن يوسف الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر أبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← أبو بكر بن عياش الأسدي | ثقة حافظ |
عاصم بن أبي النجود الأسدي ← الحجاج بن يوسف الثقفي