🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في التخيير بين الأنبياء عليهم الصلاة والسلام
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4668
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخصومات 4 (2412)، الأنبیاء 25 (3398)، الدیات 32 (6917)، صحیح مسلم/الفضائل (2374)، (تحفة الأشراف: 4405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 33، 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں،جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2412) صحيح مسلم (2374)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥يحيى بن عمارة الأنصاري
Newيحيى بن عمارة الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عمرو بن يحيى الأنصاري
Newعمرو بن يحيى الأنصاري ← يحيى بن عمارة الأنصاري
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← عمرو بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4638
لا تخيروني من بين الأنبياء فإن الناس يصعقون يوم القيامة أكون أول من يفيق فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش فلا أدري أفاق قبلي أم جزي بصعقة الطور
صحيح البخاري
2412
لا تخيروا بين الأنبياء الناس يصعقون يوم القيامة أكون أول من تنشق عنه الأرض فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش فلا أدري أكان فيمن صعق أم حوسب بصعقة الأولى
صحيح البخاري
3398
الناس يصعقون يوم القيامة أكون أول من يفيق فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش فلا أدري أفاق قبلي أم جوزي بصعقة الطور
صحيح البخاري
6916
لا تخيروا بين الأنبياء
صحيح البخاري
6917
لا تخيروني من بين الأنبياء فإن الناس يصعقون يوم القيامة أكون أول من يفيق فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش فلا أدري أفاق قبلي أم جوزي بصعقة الطور
صحيح مسلم
6156
لا تخيروا بين الأنبياء
سنن أبي داود
4668
لا تخيروا بين الأنبياء
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4668 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4668
فوائد ومسائل:
بلا شبہ انبیا ورسل ؐ میں بعض پر فضیلت حاصل ہے اور قرآن مجید نے واضح طور بیان کیا ہے، مگر ان فضائل کا اس انداز سے تقابلی بیان کہ دوسروں کی تنقیص لازم آئے، حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4668]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2412
2412. حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے کہ ایک یہودی آیا اور کہنے لگا: ابو القاسم!آپ کے ایک صحابی نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے؟ اس نے عرض کیا: وہ انصار کا ایک آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاؤ۔ آپ نے اس سے فرمایا: کیا تو نے اسے مارا ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نے بازار میں اس کو قسم اٹھاتے ہوئے سناکہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ ؑ کولوگوں پر فضیلت دی ہے۔ تو میں نے کہا: اے خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟مجھے غصہ آگیا اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء ؑ کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیاکرو کیونکہ قیامت کے دن جب سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے جس کی قبر کھلے گی وہ میں ہوں گا۔ میں دیکھوں گا کہ موسیٰ ؑ عرش کاایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بے ہوش ہونے والوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2412]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے ذیل میں علامہ قسطلانی فرماتے ہیں:
و مطابقة الحدیث للترجمة في قوله علیه الصلوة و السلام ادعوہ فإن المراد به إشخاصه بین یدیه صلی اللہ علیه وسلم یعنی باب اور حدیث میں مطابقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو یہاں بلاؤ۔
گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی حاضری ہی اس کے حق میں سزا تھی۔
اس حدیث کو اور بھی کئی مقامات پر امام بخاری ؒ نے نقل فرما کر اس سے بہت سے مسائل کا استخراج فرمایا ہے۔
ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت جملہ انبیاءو رسل ؑ پر ایسی ہی ہے جیسی فضیلت چاند کو آسمان کے سارے ستاوں پر حاصل ہے۔
اس حقیقت کے باوجود آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ لوگ آپ کی فضیلت بیان کرنے کے سلسلے میں کسی دوسرے نبی کی تنقیص شروع کر دیں۔
آپ نے خود حضرت موسیٰ ؑ کی فضیلت کا اعتراف فرمایا۔
بلکہ ذکر بھی فرمادیا کہ قیامت کے دن میرے ہوش میں آنے سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ عرش کا پایہ پکڑے ہوئے نظر آئیں گے۔
نہ معلوم آپ ان میں سے ہیں جن کا اللہ نے استثناءفرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:
﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ (الزمر: 68)
یعنی قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے گا بے ہوش نہ ہوں گے۔
یا پہلے طور پر جو بے ہوشی ان کو لاحق ہو چکی ہے وہ یہاں کام دے دی گی یا آپ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کو اللہ پاک نے محاسبہ سے بری قرار دے دیا ہوگا۔
بہرحال آپ نے اس جزوی فضیلت کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ کی افضیلت کا اعتراف فرمایا۔
اگرچہ یہ سب کچھ محض بطور اظہار انکساری ہی ہے۔
اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کا درجہ بخشا ہے جملہ انبیاء ؑ پر آپ کی افضلیت کے لیے یہ عزت کم نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2412]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4638
4638. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا تھا۔ اس نے عرض کی: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تمہارے ایک انصاری صحابی نے میرے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاؤ۔ لوگوں نے اسے بلایا تو آپ نے پوچھا: تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا یہود کے پاس سے گزر ہوا تو میں نے سنا یہ کہہ رہا تھا: اس ذات کی قسم جس نے موسٰی ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! میں نے کہا: کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر ہیں؟ مجھے اس بات پر غصہ آ گیا تو میں نے اسے طمانچہ مار دیا۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسٰی ؑ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب مجھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4638]
حدیث حاشیہ:
آیت میں طور پر حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا بیان ہے جس میں حضرت موسیٰ ؑ کا تجلی کے اثر سے بے ہوش ہونا بھی مذکور ہے۔
آیت اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4638]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6916
6916. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: انبیاء ؑ کے مابین ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6916]
حدیث حاشیہ:
یعنی اس طرح سے کہ دوسرے پیغمبروں کی توہین یا تحقیر نکلے یا اس طرح سے کہ لوگوں میں جھگڑا فساد پیدا ہو حالانکہ اس روایت میں طمانچہ کا ذکر نہیں ہے مگر آگے کی روایت میں موجود ہے یہ روایت اس کی مختصر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6916]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6917
6917. حضرت ابو سعید خدری ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اسے کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ اس نے کہا: یا محمد! تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری نے مجھ کو طمانچہ مارا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاو لوگوں نے اس کو بلایا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس کو چہرے پر طمانچہ مارا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ (یہودی) کہہ رہا تھا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے! میں نے کہا: وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں؟ مجھے اس وقت غصہ آیا تو میں نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء ؑ پر برتری نہ دیا کرو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، پھر مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو اچانک موسیٰ ؑ عرش کا پایہ پکڑے ہوں گے، نہ معلوم وہ مجھ سے پہلے ہوش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6917]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کثرت سے احادیث یاد تھیں۔
ان کی مرویات کی تعداد 1170 ہے۔
آپ کی وفات جمعہ کے دن سنہ 74ھ میں ہوئی۔
جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6917]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2412
2412. حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماتھے کہ ایک یہودی آیا اور کہنے لگا: ابو القاسم!آپ کے ایک صحابی نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے؟ اس نے عرض کیا: وہ انصار کا ایک آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاؤ۔ آپ نے اس سے فرمایا: کیا تو نے اسے مارا ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نے بازار میں اس کو قسم اٹھاتے ہوئے سناکہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ ؑ کولوگوں پر فضیلت دی ہے۔ تو میں نے کہا: اے خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟مجھے غصہ آگیا اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء ؑ کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیاکرو کیونکہ قیامت کے دن جب سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے جس کی قبر کھلے گی وہ میں ہوں گا۔ میں دیکھوں گا کہ موسیٰ ؑ عرش کاایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بے ہوش ہونے والوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2412]
حدیث حاشیہ:
(1)
مطلق فضیلت میں تمام انبیاء ؑ برابر درجہ رکھتے ہیں، البتہ خاص وجوہات اور خصوصیات کی وجہ سے ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے، مثلاً:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔
آپ سید ولدِ آدم ہیں۔
ایسی خصوصیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء ؑ پر فضیلت دی جا سکتی ہے، البتہ مطلق فضیلت کا دعویٰ کسی کے لیے نہ کیا جائے، نیز کسی نبی کے لیے ایسی فضیلت نہ ثابت کی جائے جس سے دوسرے نبی کی تنقیص یا توہین ہوتی ہو یا ایسی فضیلت نہ ہو جو باعث فساد بن جائے۔
(2)
اس روایت سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ ایک یہودی مسلمان کے خلاف اسلامی عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔
ایسے حالات میں عدالت کو عدل و انصاف کا دامن تھامنا چاہیے۔
مسلمان کی بےجا حمایت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2412]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3398
3398. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے اور مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو میں حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پائے کوپکڑے ہوں گے۔ نہ معلوم وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے یا انھیں کوہ طور کی بے ہوشی کابدلہ ملاہوگا؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3398]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ کے متعلق وضاحت ہے کہ وہ کوہ طور کے دامن میں بے ہوش ہوئے تھے۔
عنوان میں یہی واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

اس حدیث میں ایک جزوی فضیلت بیان ہوئی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق حدیث میں ہے کہ انھیں سب سے پہلے لباس پہنایاجائے گا۔
اس قسم کی جزوی فضیلت سے کلی فضیلت پر فوقیت لازم نہیں آتی۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اپنی قبر مبارک سے اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3398]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4638
4638. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا تھا۔ اس نے عرض کی: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تمہارے ایک انصاری صحابی نے میرے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاؤ۔ لوگوں نے اسے بلایا تو آپ نے پوچھا: تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرا یہود کے پاس سے گزر ہوا تو میں نے سنا یہ کہہ رہا تھا: اس ذات کی قسم جس نے موسٰی ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی! میں نے کہا: کیا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر ہیں؟ مجھے اس بات پر غصہ آ گیا تو میں نے اسے طمانچہ مار دیا۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسٰی ؑ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب مجھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4638]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں موسیٰ ؑ کا کوہ طور پر بے ہوش ہونے کا ذکر ہے۔
اس کی تفصیل آیت بالا میں بیان ہوچکی ہے۔
اس آیت سے معتزلہ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت ہی میں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَن تَرَانِي﴾ "تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا" اس میں ہمیشہ کی نفی ہے، لیکن معتزلہ کا یہ مؤقف صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اورجنت میں بھی دیدارالٰہی ہوگا۔
اس نفی روئیت کا تعلق صرف دنیا سے ہے کہ دنیا میں کوئی آنکھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرمادے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو برداشت کرسکیں گی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اس روز بہت سے چہرے خوش وخرم ہوں گے اور اپنے رب سے محودیدار ہوں گے۔
" (القیامة: 22: 23: 75)

اللہ تعالیٰ کے موسیٰ ؑ سے محو کلام ہونے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ بغیر کسی واسطے کے سب زبانوں میں، ان کے لب ولہجے اور الفاظ وحروف میں کلام کرسکتا ہے جبکہ فرقہ جہمیہ اللہ تعالیٰ کے اس طرح کلام کرنے کے منکر ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کے خلاف خیال کرتے ہیں۔
ان کا یہ مؤقف قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے خلاف ہے جس کی تفصیل ہم کتاب التوحید میں بیان کریں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4638]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6917
6917. حضرت ابو سعید خدری ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اسے کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ اس نے کہا: یا محمد! تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری نے مجھ کو طمانچہ مارا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بلاو لوگوں نے اس کو بلایا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس کو چہرے پر طمانچہ مارا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ (یہودی) کہہ رہا تھا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے! میں نے کہا: وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں؟ مجھے اس وقت غصہ آیا تو میں نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء ؑ پر برتری نہ دیا کرو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، پھر مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو اچانک موسیٰ ؑ عرش کا پایہ پکڑے ہوں گے، نہ معلوم وہ مجھ سے پہلے ہوش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6917]
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلی حدیث مختصر ہے کیونکہ اس میں طمانچہ رسید کرنے کا ذکر نہیں، البتہ دوسری حدیث میں تفصیل سے یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء علیہ السلام کے درمیان ایک کو دوسرے پر اس طرح فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے۔
جس سے کسی پیغمبر کی توہین یا حقارت کا پہلو نمایاں ہوتا ہو۔
ویسے برتری کا انداز تو قرآن کریم سے ثابت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یہ رسول، ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔
(البقرة: 2: 253)
اللہ تعالیٰ نے از خود بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے، تاہم ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے درجات متعین کرنا تمھارا کام نہیں، ان کے باہمی تقابل سے کسی نبی کی تحقیر کا امکان ہے۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر آدمی کوئی ایسی بات کہے جس کا اسے علم نہیں تو اہل علم مسلمان کے لیے جائز ہے کہ اس اقدام پر اس کی گوشمالی کریں۔
واللہ أعلم. (فتح الباري: 329/12)
بہرحال ایک مسلمان کو کسی کافر یا ذمی کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6917]