🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب ما يدل على ترك الكلام في الفتنة
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4667
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہو گا قتل کرے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الزکاة 47 (1064)، (تحفة الأشراف: 44370)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/32، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1065)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥القاسم بن الفضل الحداني، أبو المغيرة
Newالقاسم بن الفضل الحداني ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة رمي بالإرجاء
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← القاسم بن الفضل الحداني
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2458
تمرق مارقة عند فرقة من المسلمين يقتلها أولى الطائفتين بالحق
صحيح مسلم
2459
تكون في أمتي فرقتان فتخرج من بينهما مارقة يلي قتلهم أولاهم بالحق
صحيح مسلم
2460
تمرق مارقة في فرقة من الناس فيلي قتلهم أولى الطائفتين بالحق
صحيح مسلم
2461
قوما يخرجون على فرقة مختلفة يقتلهم أقرب الطائفتين من الحق
سنن أبي داود
4667
تمرق مارقة عند فرقة من المسلمين يقتلها أولى الطائفتين بالحق
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4667 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4667
فوائد ومسائل:
1: مسلمانوں میں مختلف آرا کے حامل افرا د یا جماعتوں کا وجود ہو سکتا ہے جن میں سے یقینا ایک ہی حق پر ہو گا اور دوسرا اس سے بعید۔
مگر جب تک کوئی واضح صریح باطل فکروعمل سامنے نہ آئے ان کی ضلالت کا حکم نہ لگایا جائے۔
بلکہ علم وحکمت سے تفہیم ہونی چاہیے اور حتی الامکان ان کی اشاعت اور تشہیر سے خاموشی اختیار کی جائے، اسی سے وہ فتنہ دب سکے گا۔

2: اس حدیث میں خوارج کے ظہور کی پیشین گوئی کا بیان ہے، یہ حدیث نبی ؐ کی صداقت کی ایک دلیل ہے کیونکہ خوارج کا جس وقت ظہور ہوا، وہ اس حدیث کے عین مطابق ہے، یہ 32،38 ہجری کا واقعہ ہے جب حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ کے درمیان لڑائی جاری تھی۔
اس وقت نہروان سے فرقہ خوارج کا ظہورہوا اور حضرت علی رضی اللہ نے ان سے جنگ کی اور انہیں شکست فاش دی۔
اسی قسم کی احادیث کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ کو حضرت معاویہ کے مقابلے میں اقرب الی الحق کہا جاتا ہے۔

3: اس میں باہم لڑنے والے دونوں گروہوں کو مسلمان کہا گیا ہے، اس لئے حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ دونوں اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں طعن وتشنیع کی بجائے کف لسان (خاموشی) ضروری ہے، کیونکہ دونوں ہی مسلمان اورحق پر تھے، گو ایک احق (زیادہ صحیح) تھا۔

4: فتنہ انگیز یا دین سے نکل جانے والا گروہ خوارج کا تھا، نہ کہ حضرت علی یا حضرت معاویہ رضی اللہ کا گروہ تھا، وہ دونوں تو مسلمانوں کے عظیم گروہ تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4667]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2461
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کی ہے جس میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو اختلاف پیدا کرنے والی گروہ بندی میں نکلیں گے ان دونوں گروہوں سے حق کے زیادہ قریب تر گروہ قتل کرے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2461]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت قاتلین عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےسلسلہ میں دوگروہوں میں بٹ گئی۔
ایک گروہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا اور دوسرا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ،
دونوں گروہ اپنے اپنے مؤقف کو درست تصور کرتے تھے ایک کے سامنے ایک پہلو تھا اور دوسرے کے سامنے دوسرا پہلو تھا۔
دونوں صاحب فکر ونظر اور اہل حل وعقد تھے اورخلوص نیت سے متصف تھے۔
لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مؤقف حق سے قریب تر تھا اور اس کو اپنانا یا اختیار کرنا زیادہ صحیح اور درست تر تھا،
لیکن دوسرا گروہ سراسر باطل یا ناحق پر نہیں تھا۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی تردید یا تغلیط نہیں کی کیونکہ انہوں نے بھی پورے اخلاص اور سوچ وبچار کے ساتھ مؤقف اختیار کیا تھا۔
اس لیے اس گروہ یا اس کے قائد کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کرنا۔
ان سے بغض وکینہ رکھنا۔
کوئی پسندیدہ حرکت نہیں ہے۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصور وار یا خطاکار بھی قرار نہیں دیا ہے ان کے مد مقابل کو اقرب الی الحق یا اولیٰ بالحق قرار دینے سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ دوسرے کا حق سے کوئی تعلق رابط نہیں تھا۔
نیز مجتہد تو خطاکار بھی ہوتو وہ اجر سے محروم نہیں رہتا۔
اس لیے اس کے خلاف زبان طعن کیسے دراز کی جا سکتی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دوسرے گروہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
(أَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ (1)
،
وَنَبِيَّنَا وَاحِدٌ،
وَدَعْوَتَنَا فِي الاِْسْلاَمِ وَاحِدَةٌ،
لاَ نَسْتَزِيدُهُمْ فِي الاِْيمَانِ (2)
باللهِ وَالتَّصْدِيقِ بِرَسُولِهِ (صلى الله عليه وآله)
،
وَلاَ يَسْتَزِيدُونَنَا،
الاَْمْرُ وَاحِدٌ،
إِلاَّ مَا اخْتَلَفْنَا فِيهِ مِنْ دَمِ عُثْمانَ،
وَنَحْنُ مِنْهُ بَرَاءٌ!)
(نہج البلاغہ جلد 2۔
صفحہ 114۔
تحقیق امام عبدہ بحوالہ رحماء بینھم حصہ چھارم صفحہ 183)
ہمارا رب ایک ہے،
ہمارا نبی ایک ہے،
اسلام کے بارے میں ہماری دعوت ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے میں نہ ہم سے بڑھ کر ہیں اور نہ وہ ہم سے بڑھے ہوئے ہیں ہمارا اور ان کا دینی معاملہ ایک جیسا ہے۔
مگرعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کےبارے میں ہمارا ان کا اختلاف ہے۔
حالانکہ ہم اس سے بری الذمہ ہیں۔
اورخود حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کو (فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ المُسْلِمِينَ)
مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں قراردیاہے۔
(بخاری شریف ج،
1 صفحه: 530)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2461]