سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في التخيير بين الأنبياء عليهم الصلاة والسلام
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کو لائق نہیں کہ یوں کہے کہ میں سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/205) (صحیح لغیرہ)» (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4670
| ما ينبغي لنبي أن يقول إني خير من يونس بن متى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4670 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4670
فوائد ومسائل:
حضرت یونس کا نام اس لئے لیا کہ انہی کے بارے میں وضاحت آتی ہے کہ بغیر اجازت بستی چھوڑ کے چلے گئے، اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بلا شبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) (الأنبیا: 84) کا ورد کرتے رہے، اس کے نتیجے میں انہیں نجات مل گئی اور کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں، اس کے باوجود آپ ؐ نے یہ بھی گوارا نہیں فرمایا کہ ان سے آپ کا تقابل کرکے آپ فضلیت کا اظہا ر کیا جائے۔
حضرت یونس کا نام اس لئے لیا کہ انہی کے بارے میں وضاحت آتی ہے کہ بغیر اجازت بستی چھوڑ کے چلے گئے، اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بلا شبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) (الأنبیا: 84) کا ورد کرتے رہے، اس کے نتیجے میں انہیں نجات مل گئی اور کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں، اس کے باوجود آپ ؐ نے یہ بھی گوارا نہیں فرمایا کہ ان سے آپ کا تقابل کرکے آپ فضلیت کا اظہا ر کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4670]
Sunan Abi Dawud Hadith 4670 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي