🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في التخيير بين الأنبياء عليهم الصلاة والسلام
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: کسی نبی کو لائق نہیں کہ یوں کہے کہ میں سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/205) (صحیح لغیرہ)» ‏‏‏‏ (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن جعفر الهاشمي، أبو جعفرصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥إسماعيل بن أبي حكيم القرشي
Newإسماعيل بن أبي حكيم القرشي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← إسماعيل بن أبي حكيم القرشي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن يحيى البكائي، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن يحيى البكائي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4670
ما ينبغي لنبي أن يقول إني خير من يونس بن متى
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4670 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4670
فوائد ومسائل:
حضرت یونس کا نام اس لئے لیا کہ انہی کے بارے میں وضاحت آتی ہے کہ بغیر اجازت بستی چھوڑ کے چلے گئے، اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بلا شبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) (الأنبیا: 84) کا ورد کرتے رہے، اس کے نتیجے میں انہیں نجات مل گئی اور کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں، اس کے باوجود آپ ؐ نے یہ بھی گوارا نہیں فرمایا کہ ان سے آپ کا تقابل کرکے آپ فضلیت کا اظہا ر کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4670]

Sunan Abi Dawud Hadith 4670 in Urdu