🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4699
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ، عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ:" أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ لَهُ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَال: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ".
ابن دیلمی ۱؎ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرفوع روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4699]
جناب (عبداللہ بن فیروز) ابن دیلمی نے کہا: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ سا ہے، مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے تاکہ اللہ تعالیٰ میرے دل سے یہ وسوسہ دور کر دے۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے تمام آسمان والوں اور اپنے تمام زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ ظالم نہیں ہو گا اور اگر وہ ان پر رحمت کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے اور اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر ڈالو تو جب تک تقدیر پر ایمان نہیں لاؤ گے اللہ تعالیٰ اسے تم سے قبول نہیں کرے گا اور (جب تک) یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے، وہ کسی صورت فوت نہیں ہو سکتا تھا اور جو حاصل نہیں ہوا، وہ کسی صورت حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر تم اس عقیدے کے سوا کسی اور پر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے۔ (ابن دیلمی) کہتے ہیں کہ پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔ انہوں نے کہا: پھر میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔ پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو انہوں نے بھی مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (77)، (تحفة الأشراف: 3726)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 185، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ابوالبسر عبداللہ بن فیروز الدیلمی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (115)
أخرجه ابن ماجه (77 وسنده صحيح)، سفيان الثوري صرح بالسماع عند أحمد (35/465 ح21589)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن فيروز الديلمي، أبو بسر، أبو بشرثقة
👤←👥وهب بن خالد الحميري، أبو خالد
Newوهب بن خالد الحميري ← عبد الله بن فيروز الديلمي
ثقة
👤←👥سعيد بن سنان البرجمي، أبو سنان
Newسعيد بن سنان البرجمي ← وهب بن خالد الحميري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سعيد بن سنان البرجمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4699
عذب أهل سمواته وأهل أرضه عذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم كانت رحمته خيرا لهم من أعمالهم ولو أنفقت مثل أحد ذهبا في سبيل الله ما قبله الله منك حتى تؤمن بالقدر وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وأن ما أخطأك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير هذا لدخلت النار
سنن ابن ماجه
77
لو أن الله عذب أهل سمواته وأهل أرضه لعذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم لكانت رحمته خيرا لهم من أعمالهم لو كان لك مثل أحد ذهبا أو مثل جبل أحد ذهبا تنفقه في سبيل الله ما قبله منك حتى تؤمن بالقدر كله فتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وما أخطأك لم يكن ليصيبك وأن
مشكوة المصابيح
115
نفسي شيء من القدر فحدثني بشيء لعل الله ان يذهبه من قلبي قال لو ان الله عذب اهل سماواته واهل ارضه عذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4699 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4699
فوائد ومسائل:
دین وایمان کے مسائل میں حق الیقین حاصل کرنے کے لئے مختلف علمائے راسخین سے رجوع کرتے رہنا چاہیے۔
اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور جو شفا رسول ؐ کی احادیث مبارکہ میں ہے وہ اور کہیں نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4699]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 115
مسئلہ تقدیر پر تشکیک کفر کی علامت
. . . ابن الدیلمی سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ تقدیر کے متعلق میرے دل میں کچھ شبہات پیدا ہو گئے ہیں آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے تاکہ اللہ تعالیٰ میرے دل سے ان شبہات کو دور کر دے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں کو اور تمام زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہے، یعنی زمین و آسمان والوں کو کتنے ہی عذاب میں مبتلا کر دے تو وہ ظالم نہیں کہلا سکتا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو ان کا رحم ان کے عملوں سے بہتر ہے اگر تو احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کے راستے میں خرچ کرے تو اللہ تیرے اس عمل کو نہیں قبول کرے گا یہاں تک کہ تو تقدیر پر ایمان لے آئے، اور تو اس بات کو جان لے کہ جو کچھ تجھ کو پہنچا ہے وہ رکنے والا اور خطا کرنے والا نہ تھا، اور جو کچھ تجھے نہیں پہنچنے والا تھا وہ تجھ کو نہیں پہنچا (یعنی ہر آرام و تکلیف، امیری غریبی سب تقدیر کے موافق ہے) اور اس میں کسی کے کوشش کا دخل نہیں ہے اور اگر تو اس اعتقاد کے خلاف اور اعتقاد رکھ کر مرا تو جہنم میں داخل ہو گا۔ ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی ویسا ہی کہا: تھا جیسا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا، پھرمیں حزیفہ بن یمان کے پاس آیا اور ان سے بھی میں نے یہی کہا تو انہوں نے ویسا ہی جواب دیا جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تھا۔ پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان فرمائی۔ اس کو ابوداؤد، احمد، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 115]
تخریج الحدیث:
[سنن ابي داود 4699] ، [سنن ابن ماجه 77]

تحقیق الحدیث:
اس کی سند حسن ہے۔
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔ [مسند أحمد 182/5 ح 21589]
اور اسحاق بن سلیمان الرازی وغیرہ نے ان کی متابعت کر رکھی ہے۔
اس روایت کو ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [الاحسان: 727، الموارد: 1817]
ابوسنان سعید بن سنان البرجمی الشیبانی حسن الحدیث ہیں، جمہور محدثین نے انہیں ثقہ و صدوق قرار دیا ہے۔

فقہ الحدیث
➊ تقدیر پر ایمان لائے بغیر، قیامت کے دن نجات نہیں ہو گی۔
➋ صحابہ کرام کا یہ (اجماعی) عقیدہ تھا کہ تقدیر برحق ہے۔
➌ آدمی کو چاہئیے کہ وہ مسلسل تحقیق میں مشغول رہے اور جب بھی دلیل ملے تو اسے مضبوطی سے تھام لے۔
➍ ایک عالم سے مسئلہ پوچھنے کے بعد دوسرے عالم سے بھی مسئلہ پوچھا جا سکتا ہے۔
➎ مرفوع حدیث کو بعض راویوں کے موقوف بیان کرنے سے مرفوع حدیث ضعیف نہیں ہو جاتی۔
➏ عقائد میں تمام اہل حق متحد ہیں۔ اختلاف تو صرف اجتہاد ی مسائل میں ہے۔
➐ اگر کسی آدمی کو اہل بدعت اپنی چرب زبانی کی وجہ سے شبہات میں مبتلا کرنے کی کوشش کریں تو علمائے حق کی طرف رجوع کرنا چاہئیے۔
➑ سلف صالحین کا فہم وہ مشعل ہے جس کی وجہ آدمی گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔
➒ علمائے حق کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر مسئلہ بیان کرتے وقت ضرور بالضرور دلیل بیان کریں، البتہ دلیل پوچھنے پر ٹال مٹول اور قیل و قال کے بجائے ضرور دلیل بتانی چاہیے اور افضل یہی ہے کہ مسئلہ دلیل کے ساتھ بیان کیا جائے تاکہ جو زندہ رہے وہ دلیل دیکھ کر جئے اور جو مرے وہ دلیل دیکھ کر مرے۔
➓ دلیل کے مقابلے میں ہر شخص کی بات مردود ہے، چاہے وہ کتنا بڑا مجتہد و امام ہی کیوں نہ ہو۔
⓫ اللہ تعالیٰ کے ہاں اہل بدعت کے اعمال مقبول نہیں ہیں، چاہے وہ کتنے ہی بڑے اعمال کیوں نہ ہوں۔
⓬ تقلید جائز نہیں ہے اور نہ علمائے حق سے مسئلہ پوچھنا تقلید ہے۔
⓭ اجماع شرعی حجت ہے۔
⓮ قرآن و حدیث سے دلوں کو اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔
⓯ بندے کو پہنچنے والا دکھ یا سکھ پہلے سے تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 115]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث77
قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 77]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث سے مسئلہ تقدیر کی وضاحت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے، اس لیے مخلوق کے بارے میں اس کا ہر فیصلہ حق ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُم يُسْـَٔلونَ﴾  \(الانبیاء: 23)
وہ جو کچھ کرے، اس سے اس کے متعلق سوال نہیں کیا جا سکتا اور ان (مخلوقات)
سے سوال کیا جائے گا (اور ان کا مواخذہ ہو گا۔)
یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام پر اعتراض کرنا درست نہیں کیونکہ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں بھی آجائے یا ہمیں بتائی بھی جائے۔

(2)
جو مصیبت آنی ہے وہ بہرحال آ کر رہے گی، خواہ انسان اس سے ڈرتے ہوئے نیکی کا راستہ چھوڑ کر غلط روی بھی اختیار کر لے۔
اور جو راحت اور نعمت قسمت میں ہے وہ بہرحال ملے گی، اگرچہ اس سے پہلے مشکلات و مصائب ہی کیوں نہ آئیں، اس لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے، مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
ارشادا لٰہی ہے:
﴿إِنَّهُ لَا يَا۟يـَٔسُ مِنْ رَّ‌وْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكـفِر‌ونَ﴾ (یوسف: 87)
 اللہ کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر لوگ ہیں۔

(3)
صحابہ کرام ؓ پختہ اور گہرے علم کے حامل تھے جس کی وجہ سے ان کا ایمان بھی کامل اور قوی تھا۔
تقیر جیسے بظاہر مشکل مسئلے میں انہیں وہ یقین و عرفان حاصل تھا، کس کی وجہ سے وہ اطمینان کی دولت سے مالا مال تھے اور اس بارے میں وہ شکوک و شبہات کا شکار نہیں تھے۔

(4)
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ایک دوسرے کا احترام کرتے اور ایک دوسرے کے علم کا اعتراف کرتے تھے۔
علمائے دین کا بھی ایک دوسرے کےبارے میں یہی رویہ ہونا چاہیے۔

(5)
کسی مسئلے میں اطمینان قلب کے حصول کے لیے ایک سے زیادہ علمائے کرام سے مسئلہ پوچھا جا سکتا ہے۔

(6)
صحابہ کرام ؓ کے فتاویٰ قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوتے تھے بلکہ اکثر اوقات وہ ارشاد نبوی ہی نقل کر دیتے تھے، اگرچہ یہ صراحت نہ کریں کہ یہ ارشاد نبوی ہے۔

(7)
محدثین کے ہاں یہ اصول ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے تو حدیث کے مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی لیکن حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرما دی کہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں۔

(8)
تقدیر کا یہ مسئلہ ایمان کے بنیادی مسائل میں سے ہے اور تقدیر پر ایمان لائے بغیر کسی انسان کا ایمان قابل اعتبار نہیں ہوتا، لہٰذا تقدیر کا انکار جہنم کی سزا کا باعث بن جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

Sunan Abi Dawud Hadith 4699 in Urdu