🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في القدر
باب: تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4706
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فِي قَوْلِهِ وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ سورة الكهف آية 80 وَكَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان  «وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين» اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے (سورۃ الکہف: ۸۰) کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4706]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 80] اور اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے۔ کی تفسیر میں فرما رہے تھے: وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4705)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبي بن كعب الأنصاري
صحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← محمد بن يوسف الفريابي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6766
الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا ولو عاش لأرهق أبويه طغيانا وكفرا
جامع الترمذي
3150
الغلام الذي قتله الخضر طبع يوم طبع كافرا
سنن أبي داود
4705
الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا ولو عاش لأرهق أبويه طغيانا وكفرا
سنن أبي داود
4706
وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين وكان طبع يوم طبع كافرا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4706 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4706
فوائد ومسائل:
1: وہ اس کے مطابق ہی پیدا ہوا جو اس کے لئے اللہ کے علم میں تھا کہ وہ کفر کرے گا۔

2: ہر مسلمان کو اپنی عاقبت کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے، ہمیشہ برے انجام سے پناہ اور خیر وسعادت کی دعا کرتے رہنا چاہیے: (اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ) اے اللہ! تمام امور میں ہمارا انجام بہترین بنا اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ہمیں بچا لے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4706]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4705
تقدیر (قضاء و قدر) کا بیان۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لڑکا جسے خضر (علیہ السلام) نے قتل کر دیا تھا طبعی طور پر کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دیتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4705]
فوائد ومسائل:
1: وہ کافر پیدا کیا گیا تھا کا مطلب یہی ہے کہ اس نے اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ اختیار سے کام لیتے ہوئے کفر ہی کرنا تھا اور یہ بات اللہ کو پہلے سے معلوم تھی۔

2: حضرت خضر اور حضرت موسی ؑکا دلچسپ واقعہ سورۃ کہف میں اور اس کی تفصیلات صحیین میں موجود ہیں۔
(صحیح البخاري، التفسير، حدیث:4725، صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 2380)
3: حضرت خضر اللہ کی طرف سے عطا کردہ خا ص علم کے حامل اور کچھ کاموں کے مکلف تھے، اس لیے اس پر کوئی قیاس نہیں ہو سکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4705]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6766
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بچہ جسے حضرت خضر نے قتل کیا تھا، اس پر کفر کی مہر لگی ہوئی تھی اور وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو کفر اور سر کشی پر پھنسا دیتا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6766]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوا تھا،
لیکن اگر یہ زندہ رہتا تو برے ماحول میں بیٹھ کر کفر اختیار کر لیتا،
اسے والدین اس کی محبت میں،
اس کا رویہ اور طرز عمل قبول کرتے ہوئے سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو جاتے،
اللہ تعالیٰ نے ان کے نیک اعمال کی برکت سے،
ان پر رحم و کرم فرمایا اور اس بچے کو موت سے دوچار کر دیا اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے جو نہیں ہوا ہے،
اگر اس نے ہونا ہوتا تو کیسے ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6766]

Sunan Abi Dawud Hadith 4706 in Urdu