سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4740
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: أخبرنا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 51 (6566)، سنن الترمذی/صفة جہنم 10 (2600)، سنن ابن ماجہ/الزھد 37 (4315)، (تحفة الأشراف: 10871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6566)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء عمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة | |
👤←👥الحسن بن ذكوان البصري، أبو سلمة الحسن بن ذكوان البصري ← عمران بن ملحان العطاردي | صدوق يخطئ | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← الحسن بن ذكوان البصري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6566
| يخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة يسمون الجهنميين |
جامع الترمذي |
2600
| ليخرجن قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميون |
سنن أبي داود |
4740
| يخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين |
سنن ابن ماجه |
4315
| ليخرجن قوم من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4740 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4740
فوائد ومسائل:
یہ لقب جنت میں ان کے لئے اذیت کا باعث نہیں ہو گا، اس سے نام محض یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ جہنم سے آزادشدہ ہیں۔
یہ لقب جنت میں ان کے لئے اذیت کا باعث نہیں ہو گا، اس سے نام محض یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ جہنم سے آزادشدہ ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4740]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4315
شفاعت کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
انھیں جہنمی اس معنی میں کہا جائیگا۔
کہ وہ جہنم سے نکلے ہوئے ہیں جیسے اگر کوئی شخص ایک شہر چھوڑ کر دوسری شہر میں رہائش اختیار کرلے تو عموماً اسے پہلے شہر کی طرف یاد کرکے منسوب کیا جا تا ہے۔
(2)
یہ نام اس لیے ہے کہ انھیں اللہ کی نعمت یاد رہے۔
اور انھیں خوشی حاصل ہو اس سے مقصود انکی تحقیر نہیں ویسے بھی جنت میں کوئی غم فکر اور پریشانی کا وجود نہ ھوگا۔
فوائد ومسائل:
(1)
انھیں جہنمی اس معنی میں کہا جائیگا۔
کہ وہ جہنم سے نکلے ہوئے ہیں جیسے اگر کوئی شخص ایک شہر چھوڑ کر دوسری شہر میں رہائش اختیار کرلے تو عموماً اسے پہلے شہر کی طرف یاد کرکے منسوب کیا جا تا ہے۔
(2)
یہ نام اس لیے ہے کہ انھیں اللہ کی نعمت یاد رہے۔
اور انھیں خوشی حاصل ہو اس سے مقصود انکی تحقیر نہیں ویسے بھی جنت میں کوئی غم فکر اور پریشانی کا وجود نہ ھوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4315]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6566
6566. حضرت عمرو بن حصین ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جنہم سے ایک قوم کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے نکالا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ تو انہیں جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6566]
حدیث حاشیہ:
یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں وہاں سے نکال کر آبِ حیات میں ڈالا جائے گا، ان کی وہاں اس طرح نشوونما ہوگی جس طرح خس و خاشاک کے سیلاب میں دانہ اُگتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں وہاں سے نکال کر آبِ حیات میں ڈالا جائے گا، ان کی وہاں اس طرح نشوونما ہوگی جس طرح خس و خاشاک کے سیلاب میں دانہ اُگتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6566]
عمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي