یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في قتال اللصوص
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ , عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ".
عبیدہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان ۱؎ کا ذکر کیا اور کہا: ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4763]
جناب عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ”ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہو گا یا اس میں نقص ہو گا یا ایسے ہو گا جیسے عورت کا پستان، اگر مجھے اندیشہ نہ ہو کہ تم لوگ خوشی میں آ کر بہت آگے بڑھ جاؤ گے تو میں تمہیں وہ ضرور بتا دیتا جو اللہ عزوجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان سے قتال کرنے والے کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے۔“ عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا یہ فرمان آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟“ فرمایا: ”ہاں، رب کعبہ کی قسم!“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 12 (167)، (تحفة الأشراف: 10233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 95، 144، 155، 113، 121، 122) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بغداد اور واسط کے درمیان تین گاؤں ہیں جن میں ایک اونچائی پر ہے دوسرا درمیان میں اور تیسرا نشیب میں، اسی جگہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1066)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عبيدة بن عمرو السلمانى، أبو مسلم، أبو عمرو عبيدة بن عمرو السلمانى ← علي بن أبي طالب الهاشمي | ثقة | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبيدة بن عمرو السلمانى | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن عيسى النقاش، أبو جعفر محمد بن عيسى النقاش ← حماد بن زيد الأزدي | مقبول | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← محمد بن عيسى النقاش | ثقة |
Sunan Abi Dawud Hadith 4763 in Urdu
عبيدة بن عمرو السلمانى ← علي بن أبي طالب الهاشمي