سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في العفو والتجاوز في الأمر
باب: عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4787
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ فِي قَوْلِهِ:" خُذِ الْعَفْوَ سورة الأعراف آية 199، قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان «خذ العفو» ”عفو کو اختیار کرو“ کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة الأعرف 5 (4644)، (تحفة الأشراف: 5277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4644)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4644
| يأخذ العفو من أخلاق الناس |
سنن أبي داود |
4787
| يأخذ العفو من أخلاق الناس |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4787 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4787
فوائد ومسائل:
معافی اور درگزرانتہائی عزیمت کا عمل ہے کہ انسان دل سے دوسرے کو معاف کر دے اور معاملے کو بھول جائے۔
کمزور ایمان و عمل کے آدمی سے ایسا ہونا بہت نادر ہوتا ہے، اس لیے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خاص حکم ارشاد فرمایا۔
معافی اور درگزرانتہائی عزیمت کا عمل ہے کہ انسان دل سے دوسرے کو معاف کر دے اور معاملے کو بھول جائے۔
کمزور ایمان و عمل کے آدمی سے ایسا ہونا بہت نادر ہوتا ہے، اس لیے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خاص حکم ارشاد فرمایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4787]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4644
4644. حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کے اخلاق درست کرنے کے لیے درگزر سے کام لیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4644]
حدیث حاشیہ:
غرض امام بخاری ؒ کی یہ ہے کہ عفو سے آیت میں قصور کی معافی کرنا، خطا سے در گزر کرنا مراد ہے اور یہ آیت حسن اخلاق سے متعلق ہے۔
امام جعفر صادق ؒ سے منقول ہے کہ قرآن پاک میں کوئی آیت اس آیت کی طرح جامع اخلاق نہیں ہے لیکن بعضوں نے اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے کہ ﴿خُذِ العفوَ﴾ سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ مال ان کے ضروری اخراجات سے بچ رہے وہ لے لے اور یہ حکم زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے کا ہے۔
طبری اور ابن مردویہ نے حضرت جابر ؓ سے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اسی سے نکالا۔
جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل ؑ سے اس کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا میں جا کر پرورد گار سے پوچھتا ہوں، پھر لوٹ کر آئے کہنے لگے تمہارا پرورد گار تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ جو کوئی تم سے ناطہ کاٹے تم اس سے جوڑو اور جو کوئی تم کو محروم کرے تم اس کو دو اور جو کوئی تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔
(وحیدی)
غرض امام بخاری ؒ کی یہ ہے کہ عفو سے آیت میں قصور کی معافی کرنا، خطا سے در گزر کرنا مراد ہے اور یہ آیت حسن اخلاق سے متعلق ہے۔
امام جعفر صادق ؒ سے منقول ہے کہ قرآن پاک میں کوئی آیت اس آیت کی طرح جامع اخلاق نہیں ہے لیکن بعضوں نے اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے کہ ﴿خُذِ العفوَ﴾ سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ مال ان کے ضروری اخراجات سے بچ رہے وہ لے لے اور یہ حکم زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے کا ہے۔
طبری اور ابن مردویہ نے حضرت جابر ؓ سے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اسی سے نکالا۔
جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل ؑ سے اس کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا میں جا کر پرورد گار سے پوچھتا ہوں، پھر لوٹ کر آئے کہنے لگے تمہارا پرورد گار تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ جو کوئی تم سے ناطہ کاٹے تم اس سے جوڑو اور جو کوئی تم کو محروم کرے تم اس کو دو اور جو کوئی تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4644]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4644
4644. حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کے اخلاق درست کرنے کے لیے درگزر سے کام لیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4644]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس آیت میں (عَفو)
کے متعلق دوآراء ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۔
ابن عباس ؓ کا مؤقف ہے کہ اس سے مراد لوگوں کے وہ مال ہیں جو ان کی ضروریات سے زائد ہوں، انھیں لینے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے اور یہ حکم زکاۃ کے احکام اترنے سے پہلے کا ہے۔
۔
حضرت ابن زبیر ؓ کا موقف ہے کہ اس سے مراد معاف کردینا ہے کہ لوگوں کے اخلاق واعمال کی جستجو کرنے کی بجائے انھیں معاف کردیا کریں جیسا کہ درج بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
علامہ ابن جریرطبری ؒ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ اخلاق، خلق کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ملکہ ہے جس کے باعث افعال آسانی سے صادر ہوں۔
جعفر صادق ؒ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں لوگوں کے مکارم اخلاق بیان کرنے کے بارے میں اس سے جامع کوئی آیت نہیں ہے۔
2۔
اصول اخلاق تین ہیں:
عقلی، شہوی اور غضبی۔
اور ہرخلق کا کمال امرمتوسط ہے، خلق عقلی کا متوسط حکمت ہے۔
اس سے امر بالمعروف پیدا ہوتا ہے۔
شہوی کا متوسط عفت ہے۔
اس سے اخذ عفو پیدا ہوتا ہے اور قوت غضبی کا متوسط شجاعت ہے۔
اس سے جاہلوں سے اعراض پیدا ہوتا ہے۔
(عمدة القاري: 625/12)
3۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل ؑ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ مجھے علم نہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کر کے اس کا مطلب بتا سکتا ہوں، پھر انھوں نے بتایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جو شخص آپ پر ظلم کرے، آپ اسے معاف کردیں اور جو آپ کو کچھ نہ دے آپ اس پر بخشش کریں اور جو آپ سے قطعہ تعلقی کرے آپ اس سے بھی صلح رحمی کریں۔
(فتح الباري: 388/8)
الغرض یہ آیت اخلاق فاضلہ پر مشتمل ایک جامع ہدایت نامہ ہےجس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء ؑ کی تربیت کرکے آپ کو تمام اولین وآخریں میں خلق عظیم کے خطاب سے نوازا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک آپ عمدہ اخلاق پر فائز ہیں۔
“ (القلم: 4/68)
1۔
اس آیت میں (عَفو)
کے متعلق دوآراء ہیں، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
ابن عباس ؓ کا مؤقف ہے کہ اس سے مراد لوگوں کے وہ مال ہیں جو ان کی ضروریات سے زائد ہوں، انھیں لینے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے اور یہ حکم زکاۃ کے احکام اترنے سے پہلے کا ہے۔
حضرت ابن زبیر ؓ کا موقف ہے کہ اس سے مراد معاف کردینا ہے کہ لوگوں کے اخلاق واعمال کی جستجو کرنے کی بجائے انھیں معاف کردیا کریں جیسا کہ درج بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
علامہ ابن جریرطبری ؒ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ اخلاق، خلق کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ملکہ ہے جس کے باعث افعال آسانی سے صادر ہوں۔
جعفر صادق ؒ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں لوگوں کے مکارم اخلاق بیان کرنے کے بارے میں اس سے جامع کوئی آیت نہیں ہے۔
2۔
اصول اخلاق تین ہیں:
عقلی، شہوی اور غضبی۔
اور ہرخلق کا کمال امرمتوسط ہے، خلق عقلی کا متوسط حکمت ہے۔
اس سے امر بالمعروف پیدا ہوتا ہے۔
شہوی کا متوسط عفت ہے۔
اس سے اخذ عفو پیدا ہوتا ہے اور قوت غضبی کا متوسط شجاعت ہے۔
اس سے جاہلوں سے اعراض پیدا ہوتا ہے۔
(عمدة القاري: 625/12)
3۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل ؑ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ مجھے علم نہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کر کے اس کا مطلب بتا سکتا ہوں، پھر انھوں نے بتایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جو شخص آپ پر ظلم کرے، آپ اسے معاف کردیں اور جو آپ کو کچھ نہ دے آپ اس پر بخشش کریں اور جو آپ سے قطعہ تعلقی کرے آپ اس سے بھی صلح رحمی کریں۔
(فتح الباري: 388/8)
الغرض یہ آیت اخلاق فاضلہ پر مشتمل ایک جامع ہدایت نامہ ہےجس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء ؑ کی تربیت کرکے آپ کو تمام اولین وآخریں میں خلق عظیم کے خطاب سے نوازا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک آپ عمدہ اخلاق پر فائز ہیں۔
“ (القلم: 4/68)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4644]
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن الزبير الأسدي