🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب في حسن العشرة
باب: حسن معاشرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4792
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْروٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمَّا اسْتَأْذَنَ؟ قُلْتَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17755) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وله شاھد حسن عند أحمد (6/258)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن عمرو الليثي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4792
الله لا يحب الفاحش المتفحش
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4792 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4792
فوائد ومسائل:
1) قاضی عیاض ؒ کہتے ہیں کہ یہ شخص عیینہ بن حسن فزاری تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمان ہوا تھا، مگر دورِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں مرتدین سے جا ملا اور پھر اسے قیدی بنا کر لایا گیا تھا۔

2) علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص علی الاعلان فسق و فجور و ظلم کا مرتکب ہو تا ہے یا کسی بدعت کا داعی ہے، اس کی غیبت کرنا جائز ہے۔
اور اس قسم کے لوگوں کے شر سے بچنے کے لیئے ان کے ساتھ مدارات یعنی رواداری کا معاملہ کرنا مباح ہے، بشرطیکہ دین میں مُدَا ہَنت لازم نہ آتی ہو۔

3) مدارات اور مُدَاہَنت میں فرق یہ ہے کہ دینی یا دنیاوی فوائد کے لیئے کسی کے ساتھ اپنے شخصی اور دنیاوی حقوق نظر انداز کر دینا مدارات ہوتی ہے۔
یہ ایک جائز امر ہے، بلکہ نعض دفع مستحب ہے۔
جبکہ مُدَاہَنت یہ ہے کہ انسان کسی کے ساتھ محض دنیاوی مفادات کے لیئے دین کے تقاضوں کو نظر انداز کر دے۔
یہ کسی صورت میں جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4792]