🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في الحياء
باب: شرم و حیاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4797
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ، فَافْعَلْ مَا شِئْتَ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ نبوتوں کے کلام میں سے باقی ماندہ چیزیں جو لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تمہیں شرم نہ ہو تو جو چاہو کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 54 (3483)، الأدب 78 (6120)، سنن ابن ماجہ/الزھد 17 (4183)، (تحفة الأشراف: 9982)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/121، 122، 5/273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3484)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← ربعي بن حراش العبسي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3483
مما أدرك الناس من كلام النبوة إذا لم تستح فافعل ما شئت
صحيح البخاري
3484
مما أدرك الناس من كلام النبوة إذا لم تستح فاصنع ما شئت
صحيح البخاري
6120
مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستح فاصنع ما شئت
سنن أبي داود
4797
مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستح فافعل ما شئت
سنن ابن ماجه
4183
مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستح فاصنع ما شئت
بلوغ المرام
1320
‏‏‏‏إن مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى: إذا لم تستح فاصنع ما شئت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4797 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4797
فوائد ومسائل:
اس کلام میں وعید اور تہدید کے معنی یہ ہیں کہ حیا کرو ورنہ عتاب ہوگا۔
یا ترغیب کا مفہوم ہے کہ اقدام سے پہلے سوچ لو کہ اگر کام بے حیائی کا ہے تو باز رہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4797]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
 الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1320
ایک ایسی بات جو پہلی نبوتوں سے چلی آ رہی ہے
«‏‏‏‏وعن ابن مسعود رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إن مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى: إذا لم تستح فاصنع ما شئت ‏‏‏‏ اخرجه البخاري.»
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے پہلی نبوت کے کلام میں سے جو کچھ پایا ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ جب تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر۔ اسے بخاری نے روایت کیا۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1320]
تخریج:
[بخاري3483] ، [3484]
«الاولىٰ» کا لفظ بخاری میں نہیں بلکہ ابوداؤد میں ہے۔

فوائد:
پہلی نبوتوں کے کلام سے کیا مراد ہے:
مطلب یہ ہے کہ یہ ان باتوں میں سے ہے جن پر تمام انبیاء کرام علیہم السلام متفق تھے۔ کسی شریعت میں یہ منسوخ نہیں ہوئی عقل سلیم کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے سب لوگ حتیٰ کہ اہل جاہلیت بھی اسے جانتے اور مانتے آئے ہیں۔

جب تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی میں حیا نہ رہے تو اس کے دل میں جو آتا ہے کر گزرتا ہے، اسے برائی سے کوئی چیز نہیں روک سکتی، بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن گویا یہاں امر بمعنی خبر ہے یعنی جو چاہے کر سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی حیا نہ کرے تو جو چاہے کرتا ہے کسی گندے سے گندے کام سے بھی اسے حجاب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ:
«من كذب على متعمدا فليتبوء مقعده من النار» [صحيح بخاري، العلم 38 ]
جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔ (یعنی وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لیتا ہے۔)
دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہاں امر دھمکی اور ڈانٹ کے لیے ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی آیات میں کجروی اختیار کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
«اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ‏‏‏‏ [41-فصلت:40]
جو چاہو کرو تم جو کچھ کر رہے ہو یقیناًً وہ اسے دیکھنے والا ہے۔
(یعنی جب حیاء نہ کرو تو جو چاہو کرو آخر کار اس کا بدلہ تمہیں اللہ کی طرف سے مل جائے گا۔)
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 247]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1320
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلی نبوت کے کلام میں سے لوگوں کو جو کچھ ملا ہے، اس میں سے یہ بھی ہے کہ جب تو شرم نہ کرے تو جو چاہے کر۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1320»
تخریج:
«أخرجه البخاري، أحاديث الأنبياء، باب 54، حديث:3484.»
تشریح:
1. پہلی نبوت کے کلام سے مراد وہ بات ہے جس پر سب انبیاء علیہم السلام کا اتفاق ہے اور وہ ان کی شریعتوں کی طرح منسوخ نہیں ہوئی۔
2.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی شریعتوں کی کچھ باتیں ایسی ہیں جو منسوخ نہیں۔
ان میں سے ایک یہ ہے: جب تو شرم و حیا نہ کرے تو جو چاہے کر۔
کیونکہ برائی سے روکنے کا ذریعہ حیا ہے اور جب وہ ختم ہو جائے تو انسان بغیر کسی رکاوٹ کے برائیاں کرے گا۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے دیکھ لو‘ اگر وہ ایسا ہو کہ اس سے حیا کی جاتی ہو تو اسے چھوڑ دو اور اگر اس سے شرم و حیا نہیں کی جاتی تو اسے کر گزرو اور لوگوں کی کوئی پروا نہ کرو۔
(سبل السلام)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1320]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4183
شرم و حیاء کا بیان۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4183]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حیا کی اہمیت سابقہ شریعتوں میں بھی مسلمہ تھی۔

(2)
حیا انسان کو برے کاموں سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
جب کسی میں حیا نہ ہوتو اس سے گندے سے گندے گناہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

(3)
اس حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس کام میں ایک شریف آدمی شرم محسوس نہں کرتا وہ شرعاً جائز ہوتا ہے۔
اور جس کام سے شرم محسوس ہو اس سے بچ جانا چاہیے تاہم بعض اوقات معاشرے کی حالت تبدیل ہوجانے سے گناہ عام ہوجائے اور نیکی کا رواج نہ رہے تو وہ اس حکم میں نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4183]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3484
3484. حضرت ابو مسعود انصاری ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) انبیاء ؑ کے کلام میں سے لوگوں نے جو پایا، اس میں یہ بھی ہے کہ تم میں حیا نہ ہوتو پھر جو جی میں آئے کر گزرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3484]
حدیث حاشیہ:
فارسی میں اس کا ترجمہ یوں ہے۔
بےحیاباش ہرچہ خواہی کن۔
مطلب یہ ہے کہ جب حیا شرم ہی نہ رہی ہوتو تمام برے کام شوق سے کرتا رہ۔
آخر ایک دن ضرور عذاب میں گرفتار ہوگا۔
اس حدیث کی سند میں منصور کےسماع کی ربعی سے صراحت ہے۔
دوسرے افعل کی جگہ اصنع ہے۔
تکرار بے فائدہ نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3484]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3484
3484. حضرت ابو مسعود انصاری ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) انبیاء ؑ کے کلام میں سے لوگوں نے جو پایا، اس میں یہ بھی ہے کہ تم میں حیا نہ ہوتو پھر جو جی میں آئے کر گزرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3484]
حدیث حاشیہ:

فارسی میں اس کا ترجمہ یوں ہے۔
بے حیاباش ہرچہ خواہی کن۔
مطلب یہ ہے کہ جب شرم و حیا ہی نہ ہوتو تمام برے کام شوق سے کرتے رہو۔
اس قول زریں پر تمام انبیاء ؑکا اتفاق ہے۔
اسے ہر نبی نے بیان کیا ہے اور یہ دیگر احکام کی طرح منسوخ بھی نہیں ہوا کیونکہ اس جملے کے حسن و کمال پر تمام عقلاء کا اتفاق ہے۔

یہ امر ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہےیعنی جو چاہے کرو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کی سزا ضرور دے گا۔

اس حدیث میں حیاکی فضیلت بیان ہوئی ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
واللہ أعلم (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 24)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3484]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6120
6120. حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ انبیاء کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو دل چاہے وہ کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6120]
حدیث حاشیہ:
(1)
حیا داری ایک ایسی چیز ہے جس پر سابقہ شریعتوں کا اتفاق ہے اور اس شریعت میں بھی یہ منسوخ نہیں ہوئی۔
سابقہ شریعتوں کا یہ کلام ابھی تک باقی ہے کہ جب تو بے حیا ہے تو جو چاہے کر اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اور پچھلے لوگ حیا کے مستحسن ہونے پر متفق ہیں۔
(2)
اس کلام نبوت میں صیغۂ امر تہدید (دھمکی)
کے لیے ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ۔
(حٰم السجدہ41: 40)
اس آیت میں کفروشرک کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اس سے مقصود وعید و تہدید ہے، اسی طرح کلام نبوت میں بے حیا کو ہر کام کرنے کا حکم وعید اور ڈانٹ و تنبیہ کے طور پر ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6120]