یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في كفارة المجلس
باب: مجلس کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ:" كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”اے اللہ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4857]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”چند کلمات ہیں جو کوئی انہیں اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے تین بار پڑھ لے تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے، اور جو کوئی انہیں اپنی اس مجلس کے دوران میں پڑھ لے، وہ مجلس خیر کی ہو یا ذکر کی تو یہ اس کے لیے ایسے ہوں گے، جیسے کسی تحریر کو مہر بند کر دیا گیا ہو (اس کے لیے اس کا اجر اور گناہوں کا کفارہ ہونا محفوظ ہوگا۔ وہ کلمات یہ ہیں) «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو اپنی تعریفوں سمیت پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور میں تیری ہی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔“” [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12981)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 39 (3429)، مسند احمد (2/494) (صحیح) دون قولہ: '' ثلاث مرات''»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثلاث مرات
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سعيد بن أبي ھلال لم يثبت أنه اختلط ونقل الساجي عن أحمد لا يصح لإنقطاعه
سعيد بن أبي ھلال لم يثبت أنه اختلط ونقل الساجي عن أحمد لا يصح لإنقطاعه
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4857 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4857
فوائد ومسائل:
اس روایت میں مذکورہ دُعا کو تین بار پڑھنے کی شرط صحیح نہیں۔
(علامہ البانی ؒ) بلکہ ایک ہی بار پڑھنے سے مذکورہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔
اس روایت میں مذکورہ دُعا کو تین بار پڑھنے کی شرط صحیح نہیں۔
(علامہ البانی ؒ) بلکہ ایک ہی بار پڑھنے سے مذکورہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4857]
Sunan Abi Dawud Hadith 4857 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← عبد الله بن عمرو السهمي