🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب في كفارة المجلس
باب: مجلس کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ،عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ , فَقَالَ رَجُلٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4859]
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات کہتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» اے اللہ! تو اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ یہ کلمات کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس چیز کے کفارے کے لیے ہے جو مجلس میں ہو جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/425)، سنن الدارمی/الاستئذان 29 (2700) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو ھاشم ھو يحيي بن دينار الرماني

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي الأسود الرماني، أبو هاشم
Newيحيى بن أبي الأسود الرماني ← أبو العالية الرياحي
ثقة
👤←👥الحجاج بن دينار الأشجعي
Newالحجاج بن دينار الأشجعي ← يحيى بن أبي الأسود الرماني
ثقة
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← الحجاج بن دينار الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥محمد بن حاتم الجرجائي، أبو جعفر
Newمحمد بن حاتم الجرجائي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4859
سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك فقال رجل يا رسول الله إنك لتقول قولا ما كنت تقوله فيما مضى فقال كفارة لما يكون في المجلس
المعجم الصغير للطبراني
934
لا يقوم من مجلسه حتى يقول : سبحانك اللهم وبحمدك ، أستغفرك وأتوب إليك ، ثم يقول : إنها كفارة لما يكون فى المجلس
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4859 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4859
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بے مقصد گفتگو سے مبرا تھے، آپ کا یہ عمل اُمت کے لیئے تعلیم تھا، لہذا ہر مسلمان کو اس مبارک ورد کا عامل ہونا چاہیے۔
نیز اپنی مجالس کو لغویات سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ ان میں غیبت، تہمت جھوٹ قیل و قال اور قہقے نہ ہوں۔
اور یہ سمجھ کر کہ میں آخر میں دُعائے کفارہ مجلس پڑھ لون گا جو جی چاہے کہتا اور کرتا رہے ناجائز ہے نہ معلوم دُعا کا موقع ملے نہ ملے اور پھر قبول ہو یا نہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4859]

Sunan Abi Dawud Hadith 4859 in Urdu