سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب من رد عن مسلم، غيبة
باب: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے غیبت کا جواب دیا اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4884
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيل بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ:سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ، وَمَا مِنَ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ" قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَعُقْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد:يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِسْمَاعِيل بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قِيلَ عُتْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ مَوْضِعَ عُقْبَةَ.
جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4884]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کو کہیں بے یارومددگار چھوڑا جہاں کہ وہ بے عزت کیا جا رہا تھا تو اللہ اسے ایسی جگہ بے یارومددگار چھوڑے گا جہاں وہ چاہے گا کہ (کاش) اس کی مدد کی جائے۔ اور جس نے کسی مسلمان کی مدد کی (اور اس کا دفاع کیا) جہاں اسے بے عزت اور ذلیل کیا جا رہا تھا تو اللہ اس کی ایسی جگہ مدد فرمائے گا جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے۔“ یحییٰ کہتے ہیں: ”مجھے یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر اور عقبہ بن شداد نے بھی روایت کی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ یحییٰ بن سلیم، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور اسماعیل بن بشیر بنو مغالہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور عقبہ بن شداد کی بجائے عتبہ بھی کہا گیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2214، 3769، 19101، 18992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/30) (ضعیف)» (آخری ٹکڑا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر تک ضعیف ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس معنی کی (380) نمبر کی حدیث گزر چکی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن بشير وتلميذه يحيي بن سليم مجهولان (تقريب التهذيب: 427،7562)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
إسناده ضعيف
إسماعيل بن بشير وتلميذه يحيي بن سليم مجهولان (تقريب التهذيب: 427،7562)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4884
| ما من امرئ يخذل امرأ مسلما في موضع تنتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه إلا خذله الله في موطن يحب فيه نصرته ما من امرئ ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا نصره الله في موطن يحب نصرته |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4884 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4884
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے، تاہم صحیح حدیث میں ہے: جب تک بندہ اپنے بھائی کی نصرت اور مدد میں رہے، اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے۔
(صحیح المسلم، الذکر و الدعاء، حدیث: 2699)
یہ روایت سندََا ضعیف ہے، تاہم صحیح حدیث میں ہے: جب تک بندہ اپنے بھائی کی نصرت اور مدد میں رہے، اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے۔
(صحیح المسلم، الذکر و الدعاء، حدیث: 2699)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4884]
Sunan Abi Dawud Hadith 4884 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله العدوي ← عقبة بن شداد الجهني