یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب من ليست له غيبة
باب: اس شخص کا بیان جس کی غیبت غیبت کے حکم میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4885
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ , قَالُوا: بَلَى".
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر (یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4885]
سیدنا جندب (جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آیا، اس نے اپنی سواری بٹھائی، اس کا گھٹنا باندھا پھر مسجد کے اندر آ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے کھولا، اس پر سوار ہوا پھر اونچی آواز میں بولا: ”اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر، اور ہماری اس رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ زیادہ جاہل ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں جو وہ کہہ رہا ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/312) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف بزيادة ف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو عبد اللّٰه الجشمي : مجهول (تقريب التهذيب: 8208)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
إسناده ضعيف
أبو عبد اللّٰه الجشمي : مجهول (تقريب التهذيب: 8208)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4885
| اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتنا أحدا فقال رسول الله أتقولون هو أضل أم بعيره ألم تسمعوا إلى ما قال قالوا بلى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4885 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4885
فوائد ومسائل:
اس روایت کا پہلا حصہ (اللھم ار حمني۔
۔
۔
۔
۔
) اے اللہ مجھ پر رحم کر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہماری اس رحمت میں کسی کو شریک نہ کر صحیح ہے جو پہلے حدیث نمبر: 380 میں گزر چکا ہے، جبکہ دوسرا حصہ صحیح نہیں ہے۔
بہر حال بطور نصیحت و عبرت جاہلوں کی جاہلیت کا ذکر جائز ہے۔
اس روایت کا پہلا حصہ (اللھم ار حمني۔
۔
۔
۔
۔
) اے اللہ مجھ پر رحم کر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہماری اس رحمت میں کسی کو شریک نہ کر صحیح ہے جو پہلے حدیث نمبر: 380 میں گزر چکا ہے، جبکہ دوسرا حصہ صحیح نہیں ہے۔
بہر حال بطور نصیحت و عبرت جاہلوں کی جاہلیت کا ذکر جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4885]
Sunan Abi Dawud Hadith 4885 in Urdu
أبو عبد الله الجشمي ← جندب بن عبد الله البجلي