🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب في المواضع التي لا تجوز فيها الصلاة
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ".
ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 10328) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”عمار“ ضعیف ہیں اور ”ابوصالح الغفاری“ کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس باب کی صحیح روایت کے معارض ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ بفرض صحت اس سے مقصود یہ ہے کہ بابل میں سکونت اختیار نہ کی جائے یا یہ ممانعت خاص علی رضی اللہ عنہ کے لئے تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ یہاں کے لوگوں سے انہیں ضرر پہنچے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رواية أبي صالح الغفاري: سعيد بن عبد الرحمٰن عن علي مرسلة،قاله ابن يونس المصري،انظر التقريب (2356) وتاريخ ابن يونس المصري (1/ 208 ت 554) وتحفة التحصيل (ص 125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن الغفاري، أبو صالح
Newسعيد بن عبد الرحمن الغفاري ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمار بن سعد السلهمي
Newعمار بن سعد السلهمي ← سعيد بن عبد الرحمن الغفاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن أزهر القرشي
Newيحيى بن أزهر القرشي ← عمار بن سعد السلهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← يحيى بن أزهر القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع
Newسليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
490
نهاني أن أصلي في المقبرة ونهاني أن أصلي في أرض بابل فإنها ملعونة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 490 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 490
490۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے ارض بابل میں نماز کو حرام کہا ہو جب کہ صحیح حدیث میں ہے۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور مطہر بنا دی گئی ہے۔ البتہ امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب قول تعلیقاً (بغیر سند کے) نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارض بابل میں نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے۔ [صحيح بخاري، الصلوة، باب: 53، باب الصلوة فى مواضع الخسف والعذاب]
اس باب میں یہ مرفوع حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کی ہے، تم ان عذاب یافتہ لوگوں پر داخل نہ ہو الا یہ کہ روتے ہوئے، اگر تم رونے والے نہ ہو تو پھر ان پر داخل نہ ہو۔۔۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس قسم کی جگہوں پر نماز پڑھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 490]