🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب في صلاة العتمة
باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4984
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَلَكِنَّهُمْ يَعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر «أعراب» (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4984]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز ایسا نہ ہو کہ یہ بدوی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب آ جائیں۔ خبردار! بلاشبہ اس کا نام «الْعِشَاءُ» عشاء ہے۔ لیکن چونکہ وہ لوگ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں (تو اسی مناسبت سے اسے «الْعَتَمَةُ» عتمہ، یعنی اندھیرے والی نماز کہہ دیتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 39 (644)، سنن النسائی/المواقیت 22 (542)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 13 (704)، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/10، 18، 49، 144) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے اپنے قول «ومن بعد صلاة العشاء» میں عشاء سے تعبیر کیا ہے اس لئے اس کا ترک مناسب نہیں۔
۲؎: اور اس نماز کو مؤخر کرتے ہیں اسی وجہ سے اسے «صلاة العتمة» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (644)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن أبي لبيد المدني، أبو المغيرة
Newعبد الله بن أبي لبيد المدني ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي لبيد المدني
ثقة حافظ حجة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
542
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم هذه فإنهم يعتمون على الإبل وإنها العشاء
سنن النسائى الصغرى
543
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم ألا إنها العشاء
صحيح مسلم
1456
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم العشاء فإنها في كتاب الله العشاء وإنها تعتم بحلاب الإبل
صحيح مسلم
1455
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم ألا إنها العشاء وهم يعتمون بالإبل
سنن أبي داود
4984
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم ألا وإنها العشاء ولكنهم يعتمون بالإبل
سنن ابن ماجه
704
لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم فإنها العشاء وإنهم ليعتمون بالإبل
مسندالحميدي
652
لا يغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم العشاء، فإنما هي العشاء، وإنما يسمونها العتمة؛ لأنهم يعتمون عن الإبل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4984 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4984
فوائد ومسائل:
ہمارے ہاں دیہاتوں میں بعض لوگ عشاء کی نماز کو سوتےکی نماز ظہر کو پیشی یا پییش (پہلی) اور عصر کو دیگر (دوسری) کہتے ہیں۔
لیکن اس فرمان کا مطلب یہ ہےکہ ایمانیات سے متعلق شرعی اصطلاحات غالب اور زبان زد عام ہونی چاہییں عرف سے مغلوب نہ ہونے پائیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4984]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 543
عشاء کو عتمہ کہنے کی کراہت۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں، جان لو اس کا نام عشاء ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 543]
543 ۔ اردو حاشیہ:
➊پچھلے باب والی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عتمہ فرمایا ہے اور ان دو روایات میں اس سے روکا گیا ہے، لہٰذا یا تو پہلی روایت نہی سے پہلے کی ہو گی یا عتمہ کہنا جائز تو ہو گا مگر مناسب نہیں، یعنی مکروہ تنزیہی ہو گا کیونکہ قرآن مجید میں اس نماز کا نام صراحتاً عشاء ہے۔ اگر نام بدل گیا تو عشاء کی نماز کے احکام مجہول ہو جائیں گے۔
➋اعراب(بدوی لوگ) صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ عشاء کو عتمہ کہتے تھے بلکہ وہ مغرب کی نماز کو عشاء کہتے تھے۔ یہ تو قطعاً درست نہیں کیونکہ پھر عشاء کی نماز کے احکام مغرب پر جالگیں گے اور بہت پیچیدگی پیدا ہو جائے گی۔ عشاء کو عتمہ کہنا تو وصف کی بنا پر ہے، اس لیے اس میں کچھ نرمی ہے مگر مغرب کو عشاء کہنا قطعاً درست نہیں ہے۔
➌اعراب سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحرا میں الگ تھلگ رہتے تھے۔ شہروں اور بستیوں سے دور اور ان کی تہذیب سے نفور۔ انہیں بدوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ فصاحت و بلاغت اور خالص عربی زبان کے ماہر تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 543]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث704
عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ (کتاب اللہ میں) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 704]
اردو حاشہ:
(1)
قرآن مجید میں عشاء کی نماز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ آیا ہے جہاں یہ حکم ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بچے اور غلام بھی اجازت لیکر گھر اور کمرے میں آئیں۔ (سورہ النور: 57)
اعرابیوں نے مغرب کی نماز کو عشاء اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا شروع کردیا تھا۔
اس سے خطرہ ہوا کہ لوگ اس حکم کو عشاء کے بجائے، مغرب کی نماز کے متعلق نہ سمجھ لیں، اس لیے شرعی اصطلاح کو اس طرح تبدیل کردینا کہ غلط فہمی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔

(2)
عتمہ اندھیرے کو کہتے ہیں چونکہ وہ لوگ شام کو کافی تاخیر سے یعنی اندھیرا ہونے پر اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے نماز عشاء کو عتمہ کہنا شروع کردیا۔
بعض احادیث میں نماز عشاء کو عتمہ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس نہی کو تنزیہی قرار دینا چاہیے یعنی عشاء کو عتمہ کہنے سے بچنا بہتر ہے، واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 704]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:652
652- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آجائیں یہ عشاء ہے، وہ لوگ اسے عتمہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت اونٹوں کے حوالے سے کام کاج کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ (یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے) سفیان کہتے ہیں: ابن ابولبید نے اسی طرح شک کے ہمراہ روایت نقل کی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:652]
فائدہ:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نمازوں کے نام بھی بذریعہ وحی رکھے گئے ہیں، ان کو اصل ناموں کے ساتھ ہی پکارنا چاہیے، عالمی لوگ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ دین اسلام کی اصطلاحات کو اپنے ماحول کے مطابق تبدیل کردیں، مثلاً ا آج کل نماز عشاء کوسوتے کی نماز کہتے ہیں، اور ظہر کی نماز کو پیشی کی نماز اور عصر کی نماز کو ڈیگر کی نماز کہنا درست نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض لوگوں نے نماز عشاء کو اصل نام سے تبدیل کر کے عتمہ کہنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، آج بھی ضرورت ہے کہ عامی لوگوں کو ان کی بری عادات پر ڈانٹنا چاہیے، اور انھیں قرآن و حدیث پر ہی پابند کرنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 652]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1455
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہاری نماز کے نام پر تم پر گنوار غالب نہ آ جائیں، خبردار اس کا نام عشاء ہے، وہ اونٹوں کا دودھ دوہنے کی خاطر اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے کی بنا پر عشاء کو عتمہ کہتے ہیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1455]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
هُمْ يُعْتِمَونُ بِالْاِبِل:
وہ اونٹ دوہنے کی خاطر اندھیرا کرتے ہیں،
عتمة رات کی تاریکی کو کہتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1455]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1456
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عشاء کی نماز کے نام کے سلسلہ میں تم پر بدو غالب نہ آ جائیں، کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہو اور بدو اونٹوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر لیتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1456]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حَلَاب:
مصدر ہے اور معنی تھن سے دودھ نکالنا۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو عام طور پر عتمہ کہنے سے روکا ہے کہ اس کا غالب نام عتمہ ہو جائے کبھی کبھار عتمہ کہنے سے منع نہیں فرمایا،
اس لیے بعض مواقع پر آپ نے خودعشاء کو عتمہ کے نام سے تعبیر فرمایا ہے اور عتمہ نام رکھنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب بھی بتا دیا ہے کہ گنوار چونکہ اونٹ دوہنے میں دیر کر دیتے ہیں اور اس کام میں اندھیرا پھیل جاتا ہے اس لیے وہ اس کو عتمہ کے نام سے پکارتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ عتمہ کہنا نہ شروع کر دینا کہ عشاء کا نام متروک یا مغلوب ہو جائے۔
قرآن مجید میں ہے:
﴿وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ﴾ (النور: 58)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1456]

Sunan Abi Dawud Hadith 4984 in Urdu