یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب كيف الأذان
باب: اذان کس طرح دی جائے؟
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ،عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَفِيهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَإِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ، فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟ قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرُقُهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا.
اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ پہلی یعنی صبح کی اذان میں «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے: اور جب تم نماز کی اقامت کہو تو دوبار «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہو، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) کیا تم نے سن لیا؟ (یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے؟) (سائب نے کہا) اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہ ہی کاٹا کرتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالا کرتے تھے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 501]
جناب عثمان بن سائب اپنے والد (سائب) سے، وہ اور ام عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہا (یعنی زوجہ ابومحذورہ) دونوں سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خبر کی مانند روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“ پہلی یعنی صبح کی اذان میں ہے، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”مسدد کی حدیث زیادہ واضح ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اقامت سکھائی، اس کے کلمات دو دو بار تھے: «اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالرزاق نے کہا: ”جب تو نماز کی اقامت کہے تو «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ دو بار کہہ۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا) ”کیا تم نے سن لیا؟“ (یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے؟) (سائب نے) کہا کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اپنے ماتھے کے بال نہ کاٹا کرتے تھے اور نہ مانگ نکالا کرتے تھے، اسی سبب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 501]
وضاحت: ۱؎: فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیع والی اذان ہو تو تکبیر دوہری ہو گی جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اگر اذان بلال رضی اللہ عنہ والی ہو گی یعنی بغیر ترجیع کے اگر ہو گی تو اس کی تکبیر (اقامت) اکہری ہو گی۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فكان أبو محذورة لا يجز
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وأخرجه النسائي (634) وسنده حسن
وأخرجه النسائي (634) وسنده حسن
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 501 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 501
501۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیح والی اذان ہو تو تکبیر دہری ہو گی۔ جیسے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اذان حضرت بلال والی یعنی بغیر ترجیح کے ہو۔ تو تکبیر اکہری۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
➋ زیر نظر حدیث میں صحیح ترین روایت میں «الله اكبر» کے کلمات چار بار ہیں۔
➌ شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل کہ وہ اپنے ماتھے کے بال نہ کاٹتے تھے یا ان میں مانگ نہ نکالتے تھے صحیح اور ثابت نہیں۔
➊ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیح والی اذان ہو تو تکبیر دہری ہو گی۔ جیسے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اذان حضرت بلال والی یعنی بغیر ترجیح کے ہو۔ تو تکبیر اکہری۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
➋ زیر نظر حدیث میں صحیح ترین روایت میں «الله اكبر» کے کلمات چار بار ہیں۔
➌ شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل کہ وہ اپنے ماتھے کے بال نہ کاٹتے تھے یا ان میں مانگ نہ نکالتے تھے صحیح اور ثابت نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 501]
Sunan Abi Dawud Hadith 501 in Urdu
أم عبد الملك بن سمرة المكية ← أبو محذورة القرشي