سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے“ کہتے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5045]
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونا چاہتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔“ یہ کلمات تین بار دہراتے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/287) (صحیح)» (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثلاث مرار
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2402)
مشكوة المصابيح (2402)
حدیث نمبر: 5046
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ , قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو“ براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں بلکہ «وبنبيك الذي أرسلت» (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو)“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5046]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب اپنے بستر پر جانے لگو تو وضو کر لیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور کہو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، اپنی کمر تیری طرف لگا لی (تجھے ہی اپنا سہارا بنا لیا) مجھے تیرا ہی ڈر ہے اور شوق بھی تیری طرف ہے۔ تجھ سے بھاگ کر میرے لیے تیرے سوا کہیں کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور اس نبی کو تسلیم کیا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو (اس رات میں) مر گیا تو فطرت (دین اسلام) پر مرے گا اور چاہیے کہ یہ تیری آخری بات ہو (اس کے بعد کوئی اور گفتگو نہ ہو)۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے اس دعا کو یاد کرتے ہوئے دہرایا تو لفظ کہہ دیے «وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (بلکہ جو الفاظ میں نے تمہیں پڑھائے ہیں وہی یاد کرو، اور وہ الفاظ ہیں) «وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3574)، (تحفة الأشراف: 1763)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3876)، مسند احمد (4/290، 292، 293، 296، 300)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2725) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6311) صحيح مسلم (2710)
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ“ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5047]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر آنے لگو اور باوضو ہو تو اپنی داہنی جانب پر لیٹو۔“ پھر مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
انظر الحديث السابق (5046)
حدیث نمبر: 5048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» ”جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ“ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» ”تم جب نماز جیسا وضو کر لو“ کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5048]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ سفیان نے (اپنے اساتذہ اعمش اور منصور کے متعلق) کہا کہ ان میں سے ایک کے الفاظ یہ تھے: ”جب تم باوضو ہو کر اپنے بستر پر آؤ۔“ اور دوسرے نے کہا: ”جب تم اپنے بستر پر آنے کا ارادہ کرو تو وضو کر لو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو۔“ اور معتمر (کی گزشتہ روایت 5046) کے ہم معنی بیان کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (5046)، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
انظر الحديث السابق (5046)
حدیث نمبر: 5049
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» ”اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5049]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ» ”اے اللہ! تیرے ہی نام سے میں زندہ ہوتا اور مرتا ہوں۔ یعنی سوتا اور جاگتا ہوں۔“ اور جب جاگتے تو یہ پڑھتے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا (نیند کے بعد جگایا) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6312)
حدیث نمبر: 5050
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5050]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آنے لگے تو چاہیے کہ اپنے بستر کو اپنی چادر کے پلو سے جھاڑ لے، کیا خبر اس کے بعد اس پر کوئی چیز آ گئی ہو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”تیرے ہی نام سے اے میرے رب! میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میری جان کو روک لے (موت دے دے) تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“” [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320)، والتوحید13 (7393)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2714)، (تحفة الأشراف: 14306)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 20 (3401)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3874)، مسند احمد (2/422، 432)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6320) صحيح مسلم (2714)
حدیث نمبر: 5051
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ" , زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ: اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں“ وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5051]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے، یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ، وَالْاِنْجِيْلِ، وَالْقُرْآنِ، اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِيْ شَرٍّ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اَنْتَ الْاَوَّلُ، فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الْاٰخِرُ، فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الظَّاهِرُ، فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَاَنْتَ الْبَاطِنُ، فَلَيْسَ دُوْنَكَ شَيْءٌ» ”اے اللہ! اے آسمانوں کے رب! اے زمین کے رب! اور ہر شے کے رب! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اگانے والے! اے تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر شر والی چیز سے، جن کی پیشانی تو ہی پکڑے ہوئے ہے، تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا۔ تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہ ہو گا۔ تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے زیادہ ظاہر کوئی نہیں۔ تو ہی پوشیدہ ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی نہیں۔“ وہب (وہب بن بقیہ) کی روایت میں مزید ہے: «اِقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَاَغْنِنِيْ مِنَ الْفَقْرِ» ”میرا قرض ادا فرما دے اور مجھے (لوگوں کی) محتاجی سے بے پروا کر دے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3873)، مسند احمد (2/404)، (تحفة الأشراف: 12631) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2713)
مشكوة المصابيح (2408)
مشكوة المصابيح (2408)
حدیث نمبر: 5052
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» ”اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5052]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت یہ کلمات کہا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ، مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ، وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ، مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے بزرگی والے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں اور تیرے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تو پکڑے ہوئے ہے۔ یا اللہ! تو ہی قرض اور گناہ دور کر سکتا ہے۔ یا اللہ! تیرے لشکر کو پسپا نہیں کیا جا سکتا۔ تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا اور تیرے ہاں کسی مالدار کو اس کا مال (یا خاندانی شرف والے کو اس کا شرف) کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ تو ہر عیب سے پاک اور تمام تعریفوں والا ہے۔“” [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10038) (ضعیف)» (ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبوإسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
إسناده ضعيف
أبوإسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
حدیث نمبر: 5053
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5053]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، دکھوں تکلیفوں سے ہماری حفاظت فرمائی اور ہمیں رہنے کی جگہ عنایت فرمائی، کتنی ہی مخلوق ہے کہ کوئی ان کی کفایت کرنے والا نہیں اور نہ کوئی انہیں جگہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2715)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3396)، (تحفة الأشراف: 311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 167، 235) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2715)
حدیث نمبر: 5054
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَخْسِئْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى" , قال أبو داود: رَوَاهُ أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ الْأَنْمَارِيُّ.
ابوالازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى» ”اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا (یعنی لیٹ گیا) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، (یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں)“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5054]
سیدنا ابوازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَضَعْتُ جَنْبِيْ، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ، وَأَخْسِئْ شَيْطَانِيْ، وَفُكَّ رِهَانِيْ، وَاجْعَلْنِيْ فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَىٰ» ”اللہ کے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھ دیا۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دفع (دور) کر دے، میرے نفس کو (آگ سے) آزاد کر دے اور مجھے اعلیٰ و افضل مجلس والوں میں بنا دے۔“ (ملائکہ اور انبیاء و رسل کا ہم نشین بنا دے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو ابوہمام اہوازی (محمد بن زبرقان) نے ثور سے نقل کیا تو (ابو ازہر کی بجائے) ابوزہیر انماری کہا۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11859) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2409)
ثور ھو ابن يزيد
مشكوة المصابيح (2409)
ثور ھو ابن يزيد