پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب في العصبية
باب: عصبیت (تعصب) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ , قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ".
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا: یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ۱؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”ایسا کیوں نہ کہا؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ۲؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5123]
سیدنا ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ اہل فارس کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک تھا۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو مارا اور کہا: ”یہ لو اور میں ہوں ایک فارسی جوان!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے ایسے کیوں نہ کہا: یہ لو اور میں ہوں ایک انصاری غلام!“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجھاد 13 (2784)، (تحفة الأشراف: 12070)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295) (ضعیف)» اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2784)
ابن إسحاق عنعن
وعبد الرحمٰن بن أبي عقبة:مجهول (التحرير : 3957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2784)
ابن إسحاق عنعن
وعبد الرحمٰن بن أبي عقبة:مجهول (التحرير : 3957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5123
| خذها مني وأنا الغلام الأنصاري |
سنن ابن ماجه |
2784
| خذها مني وأنا الغلام الأنصاري |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5123 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5123
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم کافر مشرک بدعتی اور جائل برادریوں کی طرف نسبت اور ان پر فخر کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
بلکہ اسلام توحید وسنت اور اہل علم کی طرف نسبت کا اظہار مطلوب اور سلف میں معمول ہے۔
راقم مترجم کے والد شیخ عبد العزیز سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔
کہ میں اپنی اولاد میں سعیدی نسبت کو اس قدر شہرت دینا چاہتا ہوں کہ ہماری اپنی قومی برادری کی نسبت فراموش ہوجائے۔
مذکورہ نسبت دہلی کے معروف مدرسہ مدرسہ سعیدیہ سے ماخوذ ہے۔
جو حضرت مولانا ابو سعید محمدشرف الدین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قائم فرمایا تھا۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم کافر مشرک بدعتی اور جائل برادریوں کی طرف نسبت اور ان پر فخر کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
بلکہ اسلام توحید وسنت اور اہل علم کی طرف نسبت کا اظہار مطلوب اور سلف میں معمول ہے۔
راقم مترجم کے والد شیخ عبد العزیز سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔
کہ میں اپنی اولاد میں سعیدی نسبت کو اس قدر شہرت دینا چاہتا ہوں کہ ہماری اپنی قومی برادری کی نسبت فراموش ہوجائے۔
مذکورہ نسبت دہلی کے معروف مدرسہ مدرسہ سعیدیہ سے ماخوذ ہے۔
جو حضرت مولانا ابو سعید محمدشرف الدین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قائم فرمایا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5123]
Sunan Abi Dawud Hadith 5123 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي عقبة الفارسي ← عبد الرحمن الفارسي