علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. باب في حق المملوك
باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5166
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ:" كُنَّا نُزُولًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَفِينَا شَيْخٌ فِيهِ حِدَّةٌ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ، فَلَطَمَ وَجْهَهَا، فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ ذَاكَ الْيَوْمَ، قَالَ: عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا، لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْهَهَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا".
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 8 (1658)، سنن الترمذی/النذور 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 4811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/448، 5/448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1658)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4304
| أمرنا رسول الله أن نعتقه |
صحيح مسلم |
4302
| أمرنا رسول الله أن نعتقها |
صحيح مسلم |
4301
| أعتقوها قالوا ليس لهم خادم غيرها قال فليستخدموها فإذا استغنوا عنها فليخلوا سبيلها |
جامع الترمذي |
1542
| أمرنا النبي أن نعتقها |
سنن أبي داود |
5166
| أمرنا النبي بعتقها |
سنن أبي داود |
5167
| أعتقوها قالوا إنه ليس لنا خادم غيرها قال فلتخدمهم حتى يستغنوا فإذا استغنوا فليعتقوها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5166 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5166
فوائد ومسائل:
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5166]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4301
حضرت معاویہ بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے ایک مولیٰ کو تھپڑ مارا تو میں بھاگ گیا، پھر ظہر سے پہلے واپس آ گیا اور اپنے والد کی اقتدا میں نماز پڑھی، تو میرے والد نے، غلام کو اور مجھے طلب کیا، پھر غلام کو کہا، اس سے بدلہ لو، تو اس نے معاف کر دیا، پھر میرے والد نے بتایا، ہم مقرن کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صرف ایک خادمہ کے مالک تھے، تو ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مارا، اور رسول... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4301]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر،
اپنے غلام کو کہا،
اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے،
حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا،
کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں،
اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں،
اور اگر ایسا کر بیٹھیں،
تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
فوائد ومسائل:
یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر،
اپنے غلام کو کہا،
اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے،
حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا،
کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں،
اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں،
اور اگر ایسا کر بیٹھیں،
تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4301]
Sunan Abi Dawud Hadith 5166 in Urdu
هلال بن يساف الأشجعي ← سويد بن مقرن المزني