سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
134. باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ
باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5156
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات (انتقال کے موقع پر) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں (غلام اور لونڈی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5156]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہی تھی: ” «الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَاتَّقُوا اللهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» ”نماز! نماز! اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔“” [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2698)، (تحفة الأشراف: 10343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3357)
رواية محمد بن فضيل عن مغيره بن مقسم محمولة علي السماع (مسند علي بن الجعد: 663) و أم موسيٰ وثقھا العجلي فالسند حسن
مشكوة المصابيح (3357)
رواية محمد بن فضيل عن مغيره بن مقسم محمولة علي السماع (مسند علي بن الجعد: 663) و أم موسيٰ وثقھا العجلي فالسند حسن
حدیث نمبر: 5157
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ غَلِيظٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ كُنْتَ أَخَذْتَ الَّذِي عَلَى غُلَامِكَ فَجَعَلْتَهُ مَعَ هَذَا فَكَانَتْ حُلَّةً وَكَسَوْتَ غُلَامَكَ ثَوْبًا غَيْرَهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي كُنْتُ سَابَبْتُ رَجُلًا وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، قَالَ: إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ فَضَّلَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُلَائِمْكُمْ فَبِيعُوهُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ".
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر کو ربذہ (مدینہ کے قریب ایک گاؤں) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی (جسم پر) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ (چادر) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے (تو زیادہ اچھا ہوتا) اس پر ابوذر نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ”ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت (کی بو باقی) ہے وہ (غلام، لونڈی) تمہارے بھائی بہن، ہیں (کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں)، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، (تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5157]
جناب معرور بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ربذہ مقام میں دیکھا، وہ ایک موٹی اونی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کی چادر تھی۔ ہمارے ساتھیوں نے کہا: ”اے ابوذر! اگر آپ غلام والی چادر خود لے لیتے تو اس طرح آپ کا یہ حلہ (پورا جوڑا) بن جاتا۔ غلام کو آپ کوئی اور کپڑا لے دیتے۔“ تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ: ”میں نے ایک آدمی کو گالی دی تھی جس کی ماں عجمی تھی۔ میں نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میری شکایت کر دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت کا اثر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”بلاشبہ یہ (غلام) تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے تم کو ان پر فضیلت بخشی ہے۔ پس جس کے ساتھ تمہاری طبیعت نہ ملتی ہو، تو اسے بیچ دو لیکن اللہ کی مخلوق کو دکھ نہ دو۔““ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 22 (30)، العتق 15 (2545)، الأدب 44 (6050)، صحیح مسلم/الأیمان 10 (1661)، سنن الترمذی/البر والصلة 29 (1945)، سنن ابن ماجہ/الأدب 10 (3690)، (تحفة الأشراف: 11980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/158، 161، 173) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لہٰذا میں اپنے اس عمل سے اسے تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے ناراض رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6050) صحيح مسلم (1661)
مشكوة المصابيح (3369)
مشكوة المصابيح (3369)
حدیث نمبر: 5158
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَخَذْتَ بُرْدَ غُلَامِكَ إِلَى بُرْدِكَ فَكَانَتْ حُلَّةً وَكَسَوْتَهُ ثَوْبًا غَيْرَهُ , قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيَكْسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ.
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہو جاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ (غلام اور لونڈی) تمہارے بھائی (اور بہن) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5158]
جناب معرور بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ہم نے دیکھا کہ ان پر ایک اونی چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کی ایک چادر تھی۔ تو ہم نے کہا: ”اے ابوذر! اگر آپ اپنے غلام والی چادر اپنی چادر کے ساتھ ملا لیتے تو ایک جوڑا بن جاتا اور اسے آپ کوئی اور کپڑا لے دیتے۔“ تو انہوں نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔ چنانچہ جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو اس کو چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ اور اسے اس کی ہمت سے زیادہ کام نہ دے، اگر اسے مکلف کرے، تو اس کی مدد بھی کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس روایت کو ابن نمیر نے اعمش سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11980) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1661)
حدیث نمبر: 5159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى مَرَّتَيْنِ: لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ , فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَعَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس (غلام) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5159]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک بار) میں اپنے غلام کو مار رہا تھا۔ تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی: ”ابومسعود! خیال کرو۔“ ابن مثنی کے الفاظ ہیں: میں نے یہ آواز دو بار سنی۔ ”اللہ کو تم پر اس سے زیادہ قدرت ہے جتنی کہ تم اس پر رکھتے ہو۔“ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو میں نے (فوراً) کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ اللہ کے لیے آزاد ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرتے تو آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔“ الفاظ «لَلَفَعَتْكَ النَّارُ» تھے یا «لَمَسَّتْكَ النَّارُ» ۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 8 (1659)، سنن الترمذی/البر والصلة 30 (1948)، (تحفة الأشراف: 10009)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/120، 5/273، 274) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1659)
حدیث نمبر: 5160
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ نَحْوَهُ، قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي أَسْوَدَ بِالسَّوْطِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْعَتْقِ.
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5160]
اعمش رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ اس میں ہے کہ ”میں اپنے ایک (کالے) غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا۔“ مگر اس میں اس کو آزاد کرنے کا بیان نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10009) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1659)
حدیث نمبر: 5161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَنْ لَمْ يُلَائِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5161]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو تمہارے موافق ہو (تمہاری پسند کے مطابق تمہاری خدمت کرتا ہو) تو اس کو اسی سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور اس کو اسی سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ اور جو تمہارے موافق نہ ہو، تو اسے بیچ ڈالو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/168، 173) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ".
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5162]
سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ غزوہ حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اپنے ماتحت اور زیر ملکیت کے ساتھ) عمدہ برتاؤ کرنا برکت ہے اور بدخلقی نحوست ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3599،18480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/502) (ضعیف)» (اس کے رواة عثمان جھنی اور بعض بنی رافع دونوں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن زفر الدمشقي مجهول (تقريب التهذيب: 4469) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
عثمان بن زفر الدمشقي مجهول (تقريب التهذيب: 4469) لم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
حدیث نمبر: 5163
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ، عَنْ عَمِّهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعٍ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ جُهَيْنَةَ قَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ".
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5163]
جناب حارث بن رافع بن مکیث سے روایت ہے اور سیدنا رافع رضی اللہ عنہ قبیلہ جہینہ سے تھے اور غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(زیر ملکیت اور ماتحت کے ساتھ) عمدہ برتاؤ کرنا باعث برکت ہے اور بدخلقی نحوست ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3599، 18480) (ضعیف)» (بقیہ ضعیف، عثمان، محمد اور حارث سب مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (5162)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
حدیث نمبر: 5164
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَهَذَا حَدِيثُ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ، فَصَمَتَ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ: اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ”ہر دن ستر بار اسے معاف کرو“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5164]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہم خادم کو کس قدر معاف کریں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے پھر سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر جب تیسری بار پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر روز ستر بار معاف کرو۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8836)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 31 (1949) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3367)
مشكوة المصابيح (3367)
حدیث نمبر: 5165
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ، جُلِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدًّا" , قال مُؤَمَّلٌ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5165]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس سے بری تھا جو اس کے بارے میں کہا گیا تھا تو اس (مالک) کو قیامت کے دن حد لگائی جائے گی۔“ مؤمل (مؤمل بن فضل) نے سند یوں بیان کی: «حَدَّثَنَا عِيسَى عَنِ الْفُضَيْلِ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ» [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 45 (6858)، صحیح مسلم/الأیمان 9 (1660)، سنن الترمذی/البر والصلة 30 (1947)، (تحفة الأشراف: 13624)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/431، 499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6858) صحيح مسلم (1660)