Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
151. باب في السلام إذا قام من المجلس
باب: مجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5208
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ , فَلْيُسَلِّمْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ , فَلْيُسَلِّمْ , فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الاستئذان 15 (2706)، (تحفة الأشراف: 13038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 439) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4660)
أخرجه الترمذي (2706 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1008)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2706
إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم فإن بدا له أن يجلس فليجلس ثم إذا قام فليسلم فليست الأولى بأحق من الآخرة
سنن أبي داود
5208
إذا انتهى أحدكم إلى المجلس فليسلم فإذا أراد أن يقوم فليسلم فليست الأولى بأحق من الآخرة
المعجم الصغير للطبراني
727
إذا جاء أحدكم القوم وهم جلوس فليسلم فإن بدت له حاجة وأراد القيام فليسلم فليست الأولى بأحق من الآخرة
المعجم الصغير للطبراني
682
إذا أتى أحدكم المجلس فليسلم فإذا قام فليسلم فليست الأولى بأحق من الثانية
المعجم الصغير للطبراني
728
مسندالحميدي
1196
إذا انتهيت إلى قوم جلوس فسلم عليهم، وإذا قمت فسلم عليهم، فإن الأولى ليست أحق من الآخرة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5208 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5208
فوائد ومسائل:
مجلس میں پہنچنے اور واپس جانے پر دونوں بار سلام کہنا واجب ہے۔
یہ نہیں کہ پہلی بار تو واجب ہو اور واپسی کے وقت کوئی لازم نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5208]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2706
مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2706]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی دونوں سلام کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے،
جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2706]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1196
1196- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: جب تم کچھ بیٹھے ہوئے افرا د کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کرو جب تم اٹھو، تو پھر انہیں سلام کرو کیونکہ پہلے والا دوسرے والے کے مقابلے میں زیادہ حق نہیں رکھتا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1196]
فائدہ:
اس حدیث سے السلام علیکم کہنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ جب آپ ایک مجلس میں جائیں تو بھی السلام علیکم کہیں اور جب واپس اٹھیں پھر بھی السلام علیکم کہیں، جس طرح مجلس میں جاتے وقت سلام کہنا ثواب ہے، اسی طرح مجلس سے اٹھتے وقت بھی سلام کہنے کا ثواب ہے، ان دونوں وقتوں میں سلام کہنے سے سستی نہیں کرنی چاہیے بعض لوگ جب مجلس میں جاتے ہیں تو سلام کہتے ہیں لیکن جب واپس آتے ہیں تو سلام نہیں کہتے جو کہ درست نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1194]