🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
170. باب ما جاء في البناء
باب: مکان بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً , فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ , أَعْرَضَ عَنْهُ , صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ , وَالْإِعْرَاضَ عَنْهُ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ , فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالُوا: خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّتَكَ , قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا , حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا , قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟ , قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا , فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ , إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1720)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4161)، مسند احمد (3/220) (حسن) (الصحیحة 2830)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو طلحة الأسدي صدوق كما في الكاشف للذهبي

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥أبو طلحة الأسدي، أبو طلحة
Newأبو طلحة الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
مقبول
👤←👥إبراهيم بن محمد الجمحي
Newإبراهيم بن محمد الجمحي ← أبو طلحة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل
Newعثمان بن حكيم الأوسي ← إبراهيم بن محمد الجمحي
ثقة
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← عثمان بن حكيم الأوسي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2482
النفقة كلها في سبيل الله إلا البناء فلا خير فيه
سنن أبي داود
5237
كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا إلا ما لا يعني ما لا بد منه
سنن ابن ماجه
4161
كل مال يكون هكذا فهو وبال على صاحبه يوم القيامة فبلغ الأنصاري ذلك فوضعها فمر النبي بعد فلم يرها فسأل عنها فأخبر أنه وضعها لما بلغه عنك فقال يرحمه الله يرحمه الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5237 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5237
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ اپنے ذاتی مکان میں رہائش رکھتے تھے اور وہ ان کی لازمی ضرورت کی حد تک ہی محدود ہوتے تھے۔
لمبے چوڑے اور اونچے اونچے محل کھڑے کرنا جن کا کوئی حقیقی مصرف نہ ہو شرعی مزاج کے خلاف ہے۔
بلکہ اونچی اونچی تعمیرات قیامت کی علامات میں سے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5237]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4161
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4161]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
علامہ ابن کثیر ؒ نےقبة کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔ (القبة من الخيام:
بيت صغير مستدير) (النهايه:
ماده قبب)
قبہ (خیمہ)
اس چھوٹے سے گھر کو کہتے ہیں جو گول شکل میں ہوتا۔
گھر کے آگے اس قسم کا خیمہ لگانا غالباً امارت کا اظہار ہوتا تھا اور صرف فخر کے لیے اس قسم کی زینت جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4161]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2482
باب:۔۔۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2482]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زافر سخت وہم کے شکار ہوجاتے تھے،
اور شبیب روایت میں غلطیاں کرجاتے تھے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2482]