🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
172. باب في قطع السدر
باب: بیر کے درخت کاٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5241
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ , عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ , فَقَالَ:" أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ , كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ , زَادَ حُمَيْدٌ , فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ , سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ" , ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5241]
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ بیری کا کاٹنا کیسا ہے؟ جبکہ وہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ کے محل کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم یہ دروازے اور چوکھٹیں دیکھ رہے ہو؟ یہ عروہ رحمہ اللہ کی بیریوں سے بنائے گئے ہیں اور عروہ رحمہ اللہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ لیا کرتے تھے اور کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید بن مسعدہ رحمہ اللہ نے مزید کہا کہ ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ارے عراقی! (حسان بن ابراہیم) تو تو میرے پاس ایک بدعت والی بات لایا ہے۔ اس نے کہا: میں نے جواب دیا کہ بدعت تو تمہاری طرف سے ہے۔ میں نے مکہ میں علماء سے سنا ہے جو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی پر لعنت کی ہے جو بیری کو کاٹے۔ پھر مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (حسن) (الصحیحة 615)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد اللهثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حسان بن إبراهيم العنزي، أبو هشام
Newحسان بن إبراهيم العنزي ← هشام بن عروة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس
Newحميد بن مسعدة السامي ← حسان بن إبراهيم العنزي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر الجشمي، أبو سعيد
Newعبيد الله بن عمر الجشمي ← حميد بن مسعدة السامي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5241
لعن رسول الله من قطع السدر
Sunan Abi Dawud Hadith 5241 in Urdu