سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
175. باب في قتل الحيات
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5256
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ , فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَنَا صَاحِبٌ لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ , فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ , فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ , فَجَاءَ , فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْهَوَامَّ مِنَ الْجِنِّ , فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا , فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ , فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے (سانپ وغیرہ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے (کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے“ (جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5256]
جناب محمد بن ابو یحییٰ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کا ایک ساتھی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے۔ پھر ہم ان کے ہاں سے نکلے تو ہمیں ہمارا ایک ساتھی ملا جو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کے ہاں جا رہا تھا۔ چنانچہ ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے تو ہمارا وہ ساتھی بھی آ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بلاشبہ کئی سانپ جن ہوتے ہیں۔ چنانچہ جو کوئی اپنے گھر میں کچھ دیکھے تو چاہیے کہ اسے تین بار متنبہ کرے، اگر وہ پھر نظر آئے تو مار ڈالے۔ بلاشبہ وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4444) (صحیح)» (اس کے رواة میں ایک راوی مجہول ہے، ہاں اگلی سند سے یہ واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
المخبر مجھول
والحديث الآتي (الأصل : 5257) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
المخبر مجھول
والحديث الآتي (الأصل : 5257) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سمعان الأسلمي، أبو يحيى سمعان الأسلمي ← أبو سعيد الخدري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن أبي يحيى الأسلمي، أبو عبد الله محمد بن أبي يحيى الأسلمي ← سمعان الأسلمي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← محمد بن أبي يحيى الأسلمي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5841
| بالمدينة نفرا من الجن قد أسلموا فمن رأى شيئا من هذه العوامر فليؤذنه ثلاثا فإن بدا له بعد فليقتله فإنه شيطان |
جامع الترمذي |
1484
| لبيوتكم عمارا فحرجوا عليهن ثلاثا فإن بدا لكم بعد ذلك منهن شيء فاقتلوه |
سنن أبي داود |
5257
| نفرا من الجن أسلموا بالمدينة فإذا رأيتم أحدا منهم فحذروه ثلاث مرات ثم إن بدا لكم بعد أن تقتلوه فاقتلوه بعد الثلاث |
سنن أبي داود |
5256
| الهوام من الجن فمن رأى في بيته شيئا فليحرج عليه ثلاث مرات فإن عاد فليقتله فإنه شيطان |
Sunan Abi Dawud Hadith 5256 in Urdu
سمعان الأسلمي ← أبو سعيد الخدري