سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب في الصلاة تقام ولم يأت الإمام ينتظرونه قعودا :
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَآهُمْ قَلِيلًا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى".
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 545]
سالم ابوالنصر رحمہ اللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کہے جانے کے بعد مسجد میں حاضرین کو کم محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے اور نماز نہ پڑھاتے اور جب دیکھتے کہ جمع ہو گئے ہیں، تو نماز پڑھا دیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف)» (یہ روایت مرسل ہے، سالم ابوالنضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
و السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (546)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
و السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (546)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سالم بن أبي أمية القرشي، أبو النضر | ثقة ثبت | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← سالم بن أبي أمية القرشي | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن إسحاق الجوهري، أبو محمد عبد الله بن إسحاق الجوهري ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
545
| حين تقام الصلاة في المسجد إذا رآهم قليلا جلس لم يصل إذا رآهم جماعة صلى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 545 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 545
545۔ اردو حاشیہ:
ملحوظہ۔
حدیث مرسل ہے، یعنی تابعی (ابوالحضر) بلاواسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ شیخ البانی کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ صحیح روایات کی رو سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار اذان کے بعد کرتے تھے نہ کہ تکبیر کے بعد۔
ملحوظہ۔
حدیث مرسل ہے، یعنی تابعی (ابوالحضر) بلاواسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ شیخ البانی کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ صحیح روایات کی رو سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار اذان کے بعد کرتے تھے نہ کہ تکبیر کے بعد۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 545]
Sunan Abi Dawud Hadith 545 in Urdu
موسى بن عقبة القرشي ← سالم بن أبي أمية القرشي