🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة
باب: نماز کی طرف چلنے کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُمْ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ، أَدْرَكَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، قَالَ: فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ بِيَدَيَّ فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ".
سعد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو ثمامہ حناط نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد جا رہے تھے کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں راستہ میں پا لیا، تو دونوں ایک دوسرے سے ملے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پیوست کئے ہوئے پایا تو اس سے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کا ارادہ کر کے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست نہ کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11119)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 167 (386)، مسند احمد (4/241)، سنن الدارمی/الصلاة 121 (1444) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: مسجد کو آتے ہوئے انگلیوں کو ایک دوسری میں دینا، انہیں چٹحانا یا اس طرح کے دوسرے لایعنی عمل مثلاً دوڑنا، ادھر ادھر تاک جھانک، فضول گفتگو اور قہقہے لگانا وغیرہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کیونکہ آدمی حکماً نماز میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (994)
أخرجه أحمد (4/241) وسنده حسن وللحديث شواھد عند الترمذي (386)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عجرة الأنصاري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو ثمامة القماح، أبو ثمامة
Newأبو ثمامة القماح ← كعب بن عجرة الأنصاري
مجهول الحال
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد
Newكيسان المقبري ← أبو ثمامة القماح
ثقة ثبت
👤←👥سعد بن إسحاق القضاعي
Newسعد بن إسحاق القضاعي ← كيسان المقبري
ثقة
👤←👥داود بن قيس القرشي، أبو سليمان
Newداود بن قيس القرشي ← سعد بن إسحاق القضاعي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← داود بن قيس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن سليمان الأنباري، أبو هارون
Newمحمد بن سليمان الأنباري ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
562
إذا توضأ أحدكم فأحسن وضوءه ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن يديه فإنه في صلاة
سنن ابن ماجه
967
رأى رجلا قد شبك أصابعه في الصلاة ففرج رسول الله بين أصابعه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 562 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 562
562. اردو حاشیہ:
 امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری  «كتاب الصلوة باب تشبيك الأصابع فى المسجد» وغیرہ میں احادیث پیش کی ہیں۔ جن سے اس عمل کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔ اور مذکورہ بالا حدیث بھی صحیح ہے۔ (شیخ البانی رحمہ اللہ)
ان میں جمع و تطبیق یہ ہے کہ اثنائے نماز یا نماز کی طرف جاتے ہوئے خاص طور پر یہ عمل منع ہے اور نہی تنزہہی ہے، اس کے علاوہ میں نہیں۔
➋ مسجد کو آتے ہوئے انگلیوں کو ایک دوسری میں دینا انہیں چٹخانا یا اس طرح کے دوسرے لایعنی عمل مثلاً دوڑنا، ادھر ادھر تاک جھانک، فضول گفتگو اور قہقے لگانا وغیرہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کیونکہ آدمی حکماً نماز میں ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 562]