سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى رَجُلًا قَدْ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَفَرَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں تشبیک کر رکھی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی انگلیاں الگ الگ کر دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 967]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کے دوران میں انگلیوں میں انگلیاں ڈالے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے دونوں ہاتھوں) کی انگلیوں کو الگ الگ کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة (386)، (تحفة الأشراف: 11121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/54، 4/242، 243)، سنن الدارمی/الصلاة 121 (1445) (ضعیف)» (علقمہ اور ابو بکر بن عیاش کے ضعف کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
وضاحت: ۱؎: ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنے کا نام تشبیک ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
562
| إذا توضأ أحدكم فأحسن وضوءه ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن يديه فإنه في صلاة |
سنن ابن ماجه |
967
| رأى رجلا قد شبك أصابعه في الصلاة ففرج رسول الله بين أصابعه |
Sunan Ibn Majah Hadith 967 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← كعب بن عجرة الأنصاري