یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب من أحق بالإمامة
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ. ح وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا"، زَادَ الْهَيْثَمُ: وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 588]
جناب نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ ”جب مہاجرینِ اولین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے مقامِ عصبہ پر (قباء کے قریب) پڑاؤ کیا تو سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کی امامت کرایا کرتے تھے، ان لوگوں میں انہیں ہی قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔“ ہیثم نے اضافہ کیا کہ ”اس جماعت میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 54 (692)، (تحفة الأشراف: 7800، 8007) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (692)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
588
| يؤمهم سالم مولى أبي حذيفة وكان أكثرهم قرآنا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 588 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 588
588۔ اردو حاشیہ:
یہ حفظ قرآن کی برکت تھی کہ قریش کے اشراف کے مقابلے میں ایک نوعمر غلام ان کا امام تھا۔
یہ حفظ قرآن کی برکت تھی کہ قریش کے اشراف کے مقابلے میں ایک نوعمر غلام ان کا امام تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 588]
Sunan Abi Dawud Hadith 588 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي