یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب من أحق بالإمامة
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 590]
عکرمہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہیے کہ تمہارے بھلے اور عمدہ لوگ اذان کہیں اور تمہارے قراء (حافظ و عالم) امامت کرائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (726)، (تحفة الأشراف: 6039) (ضعیف)» (اس کے راوی حسین حنفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (726)
حسين بن عيسي الحنفي : ضعيف (تقريب:1341) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 55)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
إسناده ضعيف
ابن ماجه (726)
حسين بن عيسي الحنفي : ضعيف (تقريب:1341) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 55)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
590
| ليؤذن لكم خياركم وليؤمكم قراؤكم |
سنن ابن ماجه |
726
| ليؤذن لكم خياركم وليؤمكم قراؤكم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 590 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 590
590۔ اردو حاشیہ:
حافظ اور عالم اور وجیہ لوگوں کا امام ہونا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مسئلہ میں انتہائی موثر ہوتا ہے، لوگ ان کی بات بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔
حافظ اور عالم اور وجیہ لوگوں کا امام ہونا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مسئلہ میں انتہائی موثر ہوتا ہے، لوگ ان کی بات بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 590]
Sunan Abi Dawud Hadith 590 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي