🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب إمامة النساء
باب: عورتوں کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ:" قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا"، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.
ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لونڈی) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/405) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی ولید کی دادی اور عبدالرحمن بن خلاد دونوں مجہول ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہیں، ابن خزیمہ نے حدیث کو صحیح کہا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 3؍142)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1676 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم ورقة بنت عبد الله الشهيدة، أم ورقةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن خلاد الأنصاري
Newعبد الرحمن بن خلاد الأنصاري ← أم ورقة بنت عبد الله الشهيدة
مجهول الحال
👤←👥ليلى بنت مالك الأنصاري، أم ورقة
Newليلى بنت مالك الأنصاري ← عبد الرحمن بن خلاد الأنصاري
مجهول
👤←👥الوليد بن عبد الله الزهري
Newالوليد بن عبد الله الزهري ← ليلى بنت مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← الوليد بن عبد الله الزهري
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
591
الله يرزقك الشهادة قال فكانت تسمى الشهيدة قال وكانت قد قرأت القرآن فاستأذنت النبي أن تتخذ في دارها مؤذنا فأذن لها