علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب الرجل يصلي عاقصا شعره
باب: آدمی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ:" أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ"، يَعْنِي: مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي: مَغْرَزَ ضَفْرِهِ.
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 646]
جناب سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا ابورافع (مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا کہ وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گدی میں اپنے بالوں کی چوٹی دھنسا رکھی تھی۔ پس ابورافع نے ان کے بال کھول دیے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے غصے سے ان کی طرف دیکھا، تو ابورافع نے کہا: ”اپنی نماز پڑھیے اور ناراض مت ہوئیے۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جوڑے کا یہ مقام شیطان کی بیٹھک ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 170 (384)، (تحفة الأشراف: 12030)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامةالصلاة 167 (1042)، مسند احمد (6/8، 391)، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1420) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
384
| ذلك كفل الشيطان |
سنن أبي داود |
646
| ذلك كفل الشيطان |
سنن ابن ماجه |
1042
| نهى رسول الله أن يصلي الرجل وهو عاقص شعره |
Sunan Abi Dawud Hadith 646 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو رافع القبطي