🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
97. باب الصفوف بين السواري
باب: ستونوں کے درمیان صف بندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ:" كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو (ازدحام کی وجہ سے) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ ہم (ستونوں سے) آگے پیچھے ہو گئے (یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے (یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 673]
جناب عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو (ازدحام کی وجہ سے) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ ہم (ستونوں سے) آگے پیچھے ہو گئے (یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے) اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے۔ (یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، سنن النسائی/الإمامة 33 (822)، (تحفة الأشراف: 980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے اس لیے جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الثوري صرح بالسماع عند البيھقي (3/104) والحاكم (1/210، 218)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الحميد بن محمود المعولي
Newعبد الحميد بن محمود المعولي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن هانئ المرادي، أبو داود
Newيحيى بن هانئ المرادي ← عبد الحميد بن محمود المعولي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← يحيى بن هانئ المرادي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
229
كنا نتقي هذا على عهد رسول الله
سنن أبي داود
673
كنا نتقي هذا على عهد رسول الله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 673 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 673
673۔ اردو حاشیہ:
چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے، اس لیے جائز نہیں۔ ہاں اگر ازدحام شدید اور انبوہ کثیر کی وجہ سے کہیں اور جگہ نہ مل رہی ہو تو اضطراراً مباح ہے مگر حتی الامکان بچنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 673]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 229
ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت۔
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اتنی بھیڑ ہو گئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا۔

2؎:
اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے،
ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 229]

Sunan Abi Dawud Hadith 673 in Urdu