یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں پر رکھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو ان کے دائیں ہاتھ کو بائیں کے اوپر کر دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 10 (889)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (811)، (تحفة الأشراف: 9378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/347) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ھشيم بن بشير صرح بالسماع عند ابن ماجه (811 وسنده حسن)
ھشيم بن بشير صرح بالسماع عند ابن ماجه (811 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان أبو عثمان النهدي ← عبد الله بن مسعود | ثقة ثبت | |
👤←👥الحجاج بن أبي زينب السلمي، أبو يوسف الحجاج بن أبي زينب السلمي ← أبو عثمان النهدي | صدوق يخطئ | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← الحجاج بن أبي زينب السلمي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥محمد بن بكار الهاشمي، أبو عبد الله محمد بن بكار الهاشمي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
253
| يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود |
سنن أبي داود |
747
| كبر ورفع يديه فلما ركع طبق يديه بين ركبتيه |
سنن أبي داود |
755
| وضع يده اليمنى على اليسرى |
سنن ابن ماجه |
811
| مر بي النبي وأنا واضع يدي اليسرى على اليمنى فأخذ بيدي اليمنى فوضعها على اليسرى |
سنن النسائى الصغرى |
1084
| يكبر في كل خفض ورفع ويسلم عن يمينه وعن يساره وكان أبو بكر وعمر ما يفعلانه |
سنن النسائى الصغرى |
1143
| يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود يسلم عن يمينه عن شماله السلام عليكم ورحمة الله حتى يرى بياض خده |
سنن النسائى الصغرى |
1150
| يكبر في كل رفع ووضع وقيام وقعود وأبو بكر وعمر وعثمان م |
سنن النسائى الصغرى |
1320
| يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود يسلم عن يمينه عن شماله السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله حتى يرى بياض خده |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 755 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 755
755۔ اردو حاشیہ:
قیام میں اس طرح ہاتھ باندھنا کہ دایاں ہاتھ بائیں پر ہو، سنت متواترہ ہے۔ نیز علماء کو چاہیے کہ عوام کی اصلاح کرتے رہا کریں۔
قیام میں اس طرح ہاتھ باندھنا کہ دایاں ہاتھ بائیں پر ہو، سنت متواترہ ہے۔ نیز علماء کو چاہیے کہ عوام کی اصلاح کرتے رہا کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 755]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 747
جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
747۔ اردو حاشیہ:
رکوع میں تطبیق کا حکم منسوخ کر دیا گیا تھا شاید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو، یا انہیں یاد نہ رہا ہو۔
رکوع میں تطبیق کا حکم منسوخ کر دیا گیا تھا شاید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو، یا انہیں یاد نہ رہا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 747]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1084
سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
1084۔ اردو حاشیہ: ”ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت۔“ البتہ اس سے رکوع سے اٹھنا مستثنیٰ ہے کہ وہاں اللہ اکبر کی بجائے «سمعَ اللَّهُ لمن حمدَهُ» مسنون ہے۔ گویا ایک آدھ کو اکثر کے تابع کر دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1084]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1143
سجدہ سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں ”اللہ اکبر“ کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں ”اللہ اکبر“ کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
1143۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے: حدیث نمبر: 1084۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1143]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1150
سجدے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
1150۔ اردو حاشیہ: د یکھیے حدیث نمبر: 1084۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1150]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث811
نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 811]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 811]
اردو حاشہ:
بعض اوقات غلطی پر تنبیہ کرنے کےلئے عملی طور پر فوراً اصلاح کردینا مناسب ہوتا ہے۔
بعض اوقات غلطی پر تنبیہ کرنے کےلئے عملی طور پر فوراً اصلاح کردینا مناسب ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 811]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 253
رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
اردو حاشہ:
1؎:
اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں22 تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل 94 تکبیریں ہوئیں،
واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ ((سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه)) کہتے تھے،
اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے،
ان تکبیرات میں سے صرف تکبیرِ تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
1؎:
اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں22 تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل 94 تکبیریں ہوئیں،
واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ ((سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه)) کہتے تھے،
اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے،
ان تکبیرات میں سے صرف تکبیرِ تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 253]
Sunan Abi Dawud Hadith 755 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← عبد الله بن مسعود