Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : التكبير للسجود
باب: سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 74 (253)، (تحفة الأشراف: 9174)، مسند احمد 1/386، 394، 418، 427، 442، 443، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1248)، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف: 9470)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1143، 1150، 1320 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت «اللہ اکبر» کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت «اللہ اکبر» نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن الأسود النخعي، أبو حفص، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن الأسود النخعي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الرحمن بن الأسود النخعي
ثقة مكثر
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة متقن
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
253
يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود
سنن أبي داود
747
كبر ورفع يديه فلما ركع طبق يديه بين ركبتيه
سنن أبي داود
755
وضع يده اليمنى على اليسرى
سنن ابن ماجه
811
مر بي النبي وأنا واضع يدي اليسرى على اليمنى فأخذ بيدي اليمنى فوضعها على اليسرى
سنن النسائى الصغرى
1084
يكبر في كل خفض ورفع ويسلم عن يمينه وعن يساره وكان أبو بكر وعمر ما يفعلانه
سنن النسائى الصغرى
1143
يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود يسلم عن يمينه عن شماله السلام عليكم ورحمة الله حتى يرى بياض خده
سنن النسائى الصغرى
1150
يكبر في كل رفع ووضع وقيام وقعود وأبو بكر وعمر وعثمان م
سنن النسائى الصغرى
1320
يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود يسلم عن يمينه عن شماله السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله حتى يرى بياض خده
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1084 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1084
1084۔ اردو حاشیہ: ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت۔ البتہ اس سے رکوع سے اٹھنا مستثنیٰ ہے کہ وہاں اللہ اکبر کی بجائے «سمعَ اللَّهُ لمن حمدَهُ» مسنون ہے۔ گویا ایک آدھ کو اکثر کے تابع کر دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1084]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 747
جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
747۔ اردو حاشیہ:
رکوع میں تطبیق کا حکم منسوخ کر دیا گیا تھا شاید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو، یا انہیں یاد نہ رہا ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 747]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 755
نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
755۔ اردو حاشیہ:
قیام میں اس طرح ہاتھ باندھنا کہ دایاں ہاتھ بائیں پر ہو، سنت متواترہ ہے۔ نیز علماء کو چاہیے کہ عوام کی اصلاح کرتے رہا کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 755]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1143
سجدہ سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
1143۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے: حدیث نمبر: 1084۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1143]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1150
سجدے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
1150۔ اردو حاشیہ: د یکھیے حدیث نمبر: 1084۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1150]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث811
نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 811]
اردو حاشہ:
بعض اوقات غلطی پر تنبیہ کرنے کےلئے عملی طور پر فوراً اصلاح کردینا مناسب ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 811]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 253
رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
اردو حاشہ:
1؎:
اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں22 تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل 94 تکبیریں ہوئیں،
واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ ((سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه)) کہتے تھے،
اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے،
ان تکبیرات میں سے صرف تکبیرِ تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 253]