🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب من جهر بها
باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنَزَّلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 788]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کا فرق نہ پہچانتے تھے حتیٰ کہ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» نازل کی جاتی۔ یہ ابن سرح کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5584، 18678) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2218)
أخرجه الحميدي (528 وسنده صحيح)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥أحمد بن شبوية الخزاعي، أبو الحسن
Newأحمد بن شبوية الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← أحمد بن شبوية الخزاعي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
788
لا يعرف فصل السورة حتى تنزل عليه بسم الله الرحمن الرحيم
مسندالحميدي
538
وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يعلم ختم السورة حتى ينزل عليه (بسم الله الرحمن الرحيم)
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 788 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 788
788۔ اردو حاشیہ:
اس مسئلہ میں کہ «بسم الله» جہراً پڑھا جائے یا سراً علامہ ابن القیم کی بات معتدل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی جہراً پڑھتے تھے اور کبھی سراً، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو سراً پڑھنا زیادہ ثابت ہے، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روزانہ پانچ اوقات میں نیز سفر و حضر میں بھی جہراً پڑھتے رہے ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین پر مخفی رہا ہو۔ اور پھر آپ کے اہل شہر خیر القرون میں بھی اس سے بےخبر رہیں۔ یہ ازحد محال بات ہے۔ چہ جائے کہ «بسم الله» کے جہراً کو ثابت کرنے کے لئے مجمل الفاظ اور کمزور احادیث کا سہارا لیا جائے۔ اس بارے میں صحیح احادیث غیر صریح اور جو صریح ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔ [ذاد المعاد فصل فى هديه صلى الله عليه وسلم فى الصلواة]
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: [نيل الاوطار و سبل السلام]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا موقف بھی «بسم الله» سری پڑھنے کا ہے۔ دیکھیے: [صفة الصلواة النبى صلي الله عليه وسلم ص 96]
اور یہی راحج ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 788]

Sunan Abi Dawud Hadith 788 in Urdu