🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
131. باب ما جاء في القراءة في الظهر
باب: ظہر کی قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر تک قیام کرتے تھے کسی قدم کی آہٹ نہیں سنی جاتی ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: 5185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/356) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں رجل مبہم راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی جماعت میں آنے والے سب آ چکے ہوتے کوئی باقی نہیں رہتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ رجل ‘‘ مجهول،ولم يأت تعينه في السند المقبول
وحديث البيهقي (66/2) ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
0
👤←👥محمد بن جحادة الأودي
Newمحمد بن جحادة الأودي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← محمد بن جحادة الأودي
ثقة
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
802
يقوم في الركعة الأولى من صلاة الظهر حتى لا يسمع وقع قدم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 802 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 802
802۔ اردو حاشیہ:
ظہر اور عصر کی آخری رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر کفایت کرنا اور مزید پڑھنا بھی درست ہے جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ دیکھیے: [سنن ابی داود حديث نمبر 804]
➋ سری نماز میں امام کے لیے مستحب ہے کہ اپنی قرأت میں سے کبھی کوئی آیت قدرے اونچی آواز سے پڑھ دیا کرے۔
➌ پہلی رکعت کو دوسری کی نسبت قدرے لمبا کرنا مستحب ہے۔
➍ امام اگر اس نیت سے قرأت کو طول دے کہ لوگ رکعت میں مل جائیں یہ مباح ہے۔
➎ سری قرأت میں ضروری ہے کہ الفاظ زبان سے ادا ہوں، نہ کہ ہونٹ بند کر کے الفاظ پر تفکر کرنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک اثنائے قرأت میں حرکت کرتی تھی۔
➏ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک اس قدر لمبی تھی کہ قرأت کرنے سے اس میں حرکت ہوتی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 802]