پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ، ثُمَّ يَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ، قَالَ: ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ فَيُمَكِّنَ وَجْهَهُ، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا، قَالَ: جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ، حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ". فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ، لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز پوری (مکمل) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، (یعنی) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر «الله اكبر» کہے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے“، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا: ”پھر وہ «الله اكبر» کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے“۔ ہمام کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا: اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر «الله اكبر» کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا): ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 858]
جناب علی بن یحییٰ بن خلاد نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے چچا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اس میں ہے کہ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کی نماز اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وضو کامل نہ کرے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے۔ پس اپنا چہرہ دھوئے، کہنیوں تک دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر «اللهُ أَكْبَرُ» کہے (اور نماز شروع کرے) اور اللہ عزوجل کی حمد و ثناء کرے۔ پھر قرآن سے قراءت کرے جیسے کہ اسے حکم دیا گیا ہے اور جو آسان لگے۔“ پھر حماد کی حدیث کی مانند روایت کیا۔ اور کہا: ”پھر تکبیر کہے اور سجدہ کرے اور اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے۔“ ہمام نے اس مقام پر بعض اوقات «جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ» کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی اپنی پیشانی زمین پر ٹکائے حتیٰ کہ اس کے جوڑ اطمینان اور سکون سے ٹک جائیں۔ پھر تکبیر کہے اور درست ہو کر سرین پر بیٹھ جائے اور کمر کو سیدھی رکھے۔ الغرض! اسی انداز میں نماز کا طریقہ بیان فرمایا حتیٰ کہ چاروں رکعات سے فارغ ہو جائے۔ کسی شخص کی نماز کامل نہیں ہو سکتی، حتیٰ کہ ایسے ہی کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (1137 وسنده صحيح) وابن ماجه (460 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (1137 وسنده صحيح) وابن ماجه (460 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 858 in Urdu
يحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي