سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
173. باب تشميت العاطس في الصلاة
باب: نماز میں چھینک کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:" فَلَا تَأْتِهِمْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدُّهُمْ"، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ"، قَالَ: قُلْتُ جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ: إِذْ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَاكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا"، قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (حالت نماز میں) «يرحمك الله» کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے (اپنے دل میں) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: ”نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے“، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں (ابھی) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو (جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس مت جاؤ“۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے“۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر (خط) کھینچتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی خط (لکیریں) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے“۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں (اچانک) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ“، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لونڈی سے) پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 930]
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور قوم میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے۔“ اس پر لوگوں نے مجھے تیز نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا: ”افسوس! میری ماں کا مجھے گم کرنا! تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟“ (اس پر) ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے شروع کر دیے، تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں۔ (استاد) عثمان نے بیان کیا کہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ یہ لوگ مجھے خاموش کرا رہے ہیں (تو مجھے غصہ تو آیا) مگر میں خاموش رہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مارا نہ ڈانٹا، نہ سخت سست کہا، بلکہ فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کی سی عام بات چیت جائز نہیں ہے، اس میں تسبیح ہوتی ہے، تکبیر ہوتی ہے اور قرآن مجید پڑھا جاتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قسم کی بات فرمائی۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم لوگ نئے نئے جاہلیت سے باہر آئے ہیں اور اللہ نے ہمیں اسلام (کی نعمت) سے نوازا ہے، تو ہم میں کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جایا کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”ہم میں کچھ لوگ (پرندوں وغیرہ سے) بدفالی لیتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے دلوں کے اوہام ہیں، یہ چیزیں ان کے لیے رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔“ میں نے عرض کیا: ”ہم میں کچھ لوگ ہیں جو لکیریں کھینچتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہوں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔“ (لیکن اب یہ جاننا مشکل ہے۔) میں نے کہا: ”میری ایک لونڈی ہے جو احد اور جوانیہ کی اطراف میں میری کچھ بکریاں چرایا کرتی تھی، میں نے ایک بار اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے اور میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، جس طرح انہیں افسوس ہوتا ہے مجھے بھی ہوا تو میں نے اسے تھپڑ دے مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میرے لیے بڑا بھاری اور برا عمل جانا۔“ میں نے کہا: ”کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: ”آسمان میں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو، بلاشبہ یہ مومنہ ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 7 (537)، والسلام 35 (537)، سنن النسائی/السھو 20 (1219)، (تحفة الأشراف: 11378)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 6 (8) مسند احمد (5/447، 448، 449)، سنن الدارمی/الصلاة 177 (1543) ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3282)، وفی الطب (3909) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (537)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
0
| صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو التسبيح والتكبير وتلاوة القرآن |
صحيح مسلم |
1199
| الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن منا رجالا يأتون الكهان قال فلا تأتهم منا رجال يتطيرون قال ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم منا رجال يخطون قال كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك أفلا أعتقها ق |
سنن أبي داود |
930
| الصلاة لا يحل فيها شيء من كلام الناس هذا إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن منا رجال يأتون الكهان قال فلا تأتهم قال قلت ومنا رجال يتطيرون قال ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدهم منا رجال يخطون قال كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك أ |
سنن أبي داود |
931
| الصلاة لقراءة القرآن وذكر الله فإذا كنت فيها فليكن ذلك شأنك |
بلوغ المرام |
172
| إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن |
Sunan Abi Dawud Hadith 930 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← معاوية بن الحكم السلمي