🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
191. باب في السلام
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قَيْسٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اپنے بائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 997]
جناب علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے تو «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں کہتے اور اپنی بائیں طرف «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو کہتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11776) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدةصحابي
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي
Newعلقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي
ثقة
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← علقمة بن وائل الحضرمي
ثقة
👤←👥موسى بن قيس الحضرمي، أبو محمد
Newموسى بن قيس الحضرمي ← سلمة بن كهيل الحضرمي
مقبول
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← موسى بن قيس الحضرمي
ثقة حافظ فاضل
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
997
يسلم عن يمينه السلام عليكم ورحمة الله وبركاته عن شماله السلام عليكم ورحمة الله
بلوغ المرام
252
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 997 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 997
997۔ اردو حاشیہ:
«وبركاته» سنن ابوداؤد کے متد اول نسخوں میں دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے اور بائیں جانب صرف «السلام وعليكم ورحمة الله» کہنا ثابت ہے، تاہم سنن ابوداؤد کے بعض نسخوں میں اور بلوغ المرام میں دونوں سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کہتا ہے یا کہنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: [نيل الاوطار۔ 334/2، سبل السلام۔ 330۔ 331/1 اور شرح بلوغ المرام صفي الرحمٰن مبارك پوري]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 997]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 252
نماز کی صفت کا بیان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ۔ ابوداؤد نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 252»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، با ب في السلام، حديث:997.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے سلام میں وَبَرَکَاتُہُ کا اضافہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
یہ اضافہ گو اس موضوع کی اکثر روایات میں نہیں ہے لیکن یہ اور اس کے علاوہ بعض دیگر روایات سے بھی اس کی صحت ثابت ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نتائج الأفکار میں تفصیل سے اس پر بحث کی ہے‘ اس لیے السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ کہنا بھی درست ہے۔
2. امام شافعی رحمہ اللہ بلکہ کبار صحابہ و تابعین کے نزدیک السلام علیکم کہہ کر نماز سے فارغ ہونا فرض ہے مگر احناف اسے صرف سنت قرار دیتے ہیں اور کسی بھی ایسے عمل کو نماز سے فارغ ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو نماز کے منافی ہو۔
لیکن یہ صریح احادیث کے خلاف ہے اور سنت قولی و عملی کے بھی منافی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 252]

Sunan Abi Dawud Hadith 997 in Urdu