صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
683. (450) باب إباحة الوتر أول الليل إن أحب المصلي أو وسطه أو آخره، إذ الليل بعد العشاء الآخرة إلى طلوع الفجر كله وقت الوتر
اگر نمازی ابتدائی رات، درمیانی رات یا رات کے آخری پہر وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ عشاء کی نماز سے لیکر طلوع فجر تک ساری رات نماز وتر کا وقت ہے
حدیث نمبر: 1080
نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ"
سیدنا علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصّے میں وتر پڑھے ہیں، ابتدائی رات میں بھی، درمیانی رات میں بھی اور رات کے آخری حصّے میں بھی ادا کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: صحيح
الرواة الحديث:
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي