صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
696. (463) باب فضل ركعتي الفجر إذ هما خير من الدنيا جميعا
نماز فجر کی دو سنّتوں کی فضیلت کا بیان کہ وہ ساری دنیا سے بہتر ہیں
حدیث نمبر: 1107
نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا سَعِيدٌ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَالدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، كِلاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: هُمَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ:" رَكْعَتَا الْفَجْرِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعات (سنّت) پوری دنیا سے بہتر ہیں۔ جناب صنعانی نے نماز فجر کی دو رکعتوں کے بارے میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ وہ دونوں رکعات ساری دنیا سے بہتر ہیں۔ جناب صنعانی نے فجر کی دو رکعتوں کے بارے میں یہ الفاظ روایت کئے ہیں کہ وہ دونوں رکعات ساری دنیا سے بہتر ہیں۔ جناب یحیٰ بن سعید نے اپنی روایت میں کہا کہ نماز فجر کی دو رکعات (سنّت) مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 725، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1107، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2458، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1155، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1758، والترمذي فى (جامعه) برقم: 416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24878»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1107 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1107
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فجر کی دو سنتیں متاع دنیا سے بہتر ہیں۔
➋ ◈ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دنیا سے مقصود دنیا کے اموال اور زیب و زینت لیا جائے، تو مفہوم یہ ہوگا کہ ان سب سے فجر کی دو سنتیں بیش قیمت ہیں، اور اگر تمام دنیا کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مراد لیا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ تمام دنیا کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے فجر کی دو سنتوں کا ثواب زیادہ ہے۔
➌ ◈ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ [حجة الله البالغة] میں لکھتے ہیں: فجر کی سنتیں دنیا ومافیہا سے اس لیے بہتر ہیں کہ دنیا اور دنیا کی نعمتیں فانی اور بے مزہ ہیں، جب کہ فجر کی سنتوں کا ثواب دائمی اور پر لطف ہے۔ [تحفة الأحوذي: 323/2]
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فجر کی دو سنتیں متاع دنیا سے بہتر ہیں۔
➋ ◈ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دنیا سے مقصود دنیا کے اموال اور زیب و زینت لیا جائے، تو مفہوم یہ ہوگا کہ ان سب سے فجر کی دو سنتیں بیش قیمت ہیں، اور اگر تمام دنیا کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مراد لیا جائے تو مفہوم یہ ہوگا کہ تمام دنیا کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے فجر کی دو سنتوں کا ثواب زیادہ ہے۔
➌ ◈ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ [حجة الله البالغة] میں لکھتے ہیں: فجر کی سنتیں دنیا ومافیہا سے اس لیے بہتر ہیں کہ دنیا اور دنیا کی نعمتیں فانی اور بے مزہ ہیں، جب کہ فجر کی سنتوں کا ثواب دائمی اور پر لطف ہے۔ [تحفة الأحوذي: 323/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1107]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1107 in Urdu
إسرائيل بن يونس السبيعي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي