صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
695. (462) باب ذكر الدليل على أن الصلاة بعد الوتر مباحة لجميع من يريد الصلاة بعده،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وتروں کے بعد نماز ادا کرنا ہر اس شخص کے لئے جائز ہے جو وتروں کے بعد نماز پڑھنا چاہتا ہو
حدیث نمبر: Q1106
وَأَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ لَمْ يَكُونَا خَاصَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أُمَّتِهِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ، أَمْرَ نَدْبٍ وَفَضِيلَةٍ، لَا أَمْرَ إِيجَابٍ وَفَرِيضَةٍ
حدیث نمبر: 1106
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، وَإِلا كَانَتَا لَهُ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ سفر مشقّت اور تھکاوٹ کا باعث ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھے تو دو رکعتیں (مزید) پڑھ لے - پھر اگر وہ (تہجّد کے لئے) بیدار ہو گیا (تو بہتر ہے) ورنہ وہی دو رکعات اسے کافی ہوں گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1106، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2577، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1635، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4902، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1681، 1683، والبزار فى (مسنده) برقم: 4193، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2011، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1410، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6439»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1106 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1106
فوائد:
➊ مسافر کے لیے اولِ رات میں نمازِ وتر ادا کرنا افضل ہے۔
➋ وتر کے بعد نوافل خاصۂ رسول نہیں، بلکہ تمام امت کے لیے وتر کے بعد نوافل ادا کرنا مباح ہیں۔
➌ مسافر شخص رات کے شروع حصے میں وتر پڑھنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کر لے، پھر تہجد کے لیے بیدار نہ ہو سکے تو اسے قیام اللیل کا اجر ضرور ملے گا۔
➊ مسافر کے لیے اولِ رات میں نمازِ وتر ادا کرنا افضل ہے۔
➋ وتر کے بعد نوافل خاصۂ رسول نہیں، بلکہ تمام امت کے لیے وتر کے بعد نوافل ادا کرنا مباح ہیں۔
➌ مسافر شخص رات کے شروع حصے میں وتر پڑھنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کر لے، پھر تہجد کے لیے بیدار نہ ہو سکے تو اسے قیام اللیل کا اجر ضرور ملے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1106]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1106 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← ثوبان بن بجدد القرشي