صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
728. (495) باب استحباب الدعاء فى نصف الليل الآخر رجاء الإجابة
قبولیت کی امید کے ساتھ رات کے آخری نصف حصّے میں دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1146
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَغَرِّ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَيَنْزِلُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ؟"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں، حتیٰ کہ رات کا ایک تہائی حصّہ گزر جاتا ہے۔ پھر وہ (آسمان دنیا پر) نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے: ”کیا کوئی سوال کرنے والا ہے؟ کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گناہوں سے بخشش مانگنے والا ہے؟“ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو کیا یہ (رحمت و برکات کا) سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
أبو هريرة الدوسي ← أبو سعيد الخدري