صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
729. (496) باب فضل إيقاظ الرجل امرأته والمرأة زوجها لصلاة الليل
نماز تہجّد کے لئے خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو جگانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1148
نَا أَبُو قُدَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی (تہجّد کے لئے) جگا دیتا ہے۔ اگر وہ انکار کرتی ہے تو اُس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے اور اللہ اُس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو جاگتی ہے، تو نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے۔ اگر وہ (اُٹھنے سے) انکار کرے تو اُس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتی ہے۔ (تاکہ وہ اُٹھ جائے)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1168، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1609، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1335، 1336، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4718، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7486»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1148 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1148
فوائد:
➊ قیام اللیل کے لیے زوجین کا ایک دوسرے کو بیدار کرنا مستحسن اور حصولِ رحمتِ الہی کا باعث ہے۔
نیز اس طریقے پر عمل کرنے سے وہ الذاکرین والذاکرات کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
❀ ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ»
”جب رات کو انسان اپنی بیوی کو بیدار کرے اور وہ دونوں نماز پڑھیں یا اکٹھے دو رکعت نماز پڑھیں تو وہ کثرت سے ذکر کرنے والوں اور کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔“ [سنن أبي داود: 1309]
➋ زوجین میں سے ایک دوسرے کو نیکی کے کاموں کی ترغیب دے، یہ حسنِ معاشرت کا اعلیٰ مقام اور اہم مطلوب ہے۔
➌ نیند سے بیداری کا بہترین حل سوئے ہوئے شخص پر پانی کے چھینٹے مارنا ہے، اس سے نیند کی سستی اور غفلت کا مکمل ازالہ ہو جاتا ہے۔
➊ قیام اللیل کے لیے زوجین کا ایک دوسرے کو بیدار کرنا مستحسن اور حصولِ رحمتِ الہی کا باعث ہے۔
نیز اس طریقے پر عمل کرنے سے وہ الذاکرین والذاکرات کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
❀ ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ»
”جب رات کو انسان اپنی بیوی کو بیدار کرے اور وہ دونوں نماز پڑھیں یا اکٹھے دو رکعت نماز پڑھیں تو وہ کثرت سے ذکر کرنے والوں اور کثرت سے ذکر کرنے والیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔“ [سنن أبي داود: 1309]
➋ زوجین میں سے ایک دوسرے کو نیکی کے کاموں کی ترغیب دے، یہ حسنِ معاشرت کا اعلیٰ مقام اور اہم مطلوب ہے۔
➌ نیند سے بیداری کا بہترین حل سوئے ہوئے شخص پر پانی کے چھینٹے مارنا ہے، اس سے نیند کی سستی اور غفلت کا مکمل ازالہ ہو جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1148]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1148 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي