صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
746. (513) باب قضاء صلاة الليل بالنهار إذا فاتت لمرض أو شغل أو نوم
نماز تہجّد دن کے وقت قضا کرنے کا بیان جبکہ وہ بیماری، مشغولیت یا نیند کی وجہ سے فوت ہوگئی ہو
حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلاهُمَا، عَنْ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، أَيْضًا نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى صَلاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہمیشگی اور باقاعدگی کرنا پسند کرتے اور جب کبھی نیند کا غلبہ، بیماری یا کوئی تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تہجّد سے مشغول کر دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کر لیتے۔ یحیٰی بن سعید کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، 1104، 1127، 1169، 1170، 1177، 1178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1314، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191، 1348، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 166، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1170 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1170
فوائد:
➊ کسی عذر کی وجہ سے وتر چھوٹنے کی صورت میں ان کی قضا جائز اور مستحب فعل ہے۔
➋ وتر چھوٹنے کی صورت میں طلوع فجر سے لے کر نماز ظہر تک کے دوران وتر ادا کرنے کی صورت میں رات کے قیام کا مکمل ثواب ملتا ہے اور وتر نماز میں سستی کا تدارک ہو جاتا ہے۔
➌ وتر کی قضا دن کے وقت مقصود ہو تو دن کو جفت نماز ادا کی جائے گی، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول نماز تہجد گیارہ رکعت پڑھنا تھا اور کسی عارضے کی وجہ سے نماز تہجد چھوٹنے پر بارہ رکعت نماز پڑھتے تھے۔
➍ کیا وتر چھوڑنے والا ہر شخص دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرے گا؟ اس بارے میں کوئی ٹھوس دلیل ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ جس کا نماز وتر ادا کرنے کا جو معمول ہے، نماز وتر فوت ہونے کی صورت میں دن کے وقت ایک رکعت کا اضافہ کر کے اسے جفت بنا لے۔ یہ اس کے حق میں بہترین اور صواب ہے۔
➊ کسی عذر کی وجہ سے وتر چھوٹنے کی صورت میں ان کی قضا جائز اور مستحب فعل ہے۔
➋ وتر چھوٹنے کی صورت میں طلوع فجر سے لے کر نماز ظہر تک کے دوران وتر ادا کرنے کی صورت میں رات کے قیام کا مکمل ثواب ملتا ہے اور وتر نماز میں سستی کا تدارک ہو جاتا ہے۔
➌ وتر کی قضا دن کے وقت مقصود ہو تو دن کو جفت نماز ادا کی جائے گی، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول نماز تہجد گیارہ رکعت پڑھنا تھا اور کسی عارضے کی وجہ سے نماز تہجد چھوٹنے پر بارہ رکعت نماز پڑھتے تھے۔
➍ کیا وتر چھوڑنے والا ہر شخص دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرے گا؟ اس بارے میں کوئی ٹھوس دلیل ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ جس کا نماز وتر ادا کرنے کا جو معمول ہے، نماز وتر فوت ہونے کی صورت میں دن کے وقت ایک رکعت کا اضافہ کر کے اسے جفت بنا لے۔ یہ اس کے حق میں بہترین اور صواب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1170]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1170 in Urdu
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق