صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
785. (552) بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى فِي الصَّلَاةِ قَاعِدًا فَجَعَلَ صَلَاتَهُ قَاعِدًا كَالصَّلَاةِ قَائِمًا فِي الْأَجْرِ
بیٹھ کر نماز پڑھنے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کا بیان جو اللہ تعالی نے اپنے مصطفیٰ کو عطا کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹھ کر ادا کی گئی نماز کا اجر و ثواب کھڑے ہوکر ادا کی گئی نماز کے برابر بنایا ہے
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، قُلْتُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ، تَقُولُ:" إِنَّ صَلاةَ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةَ الْقَائِمِ، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ"، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى، لَمْ يَقُلْ بُنْدَارٌ: قَالَ:" أَجَلْ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کی، مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بیشک بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا اجر ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ لیکن میں تم میں سے کسی ایک شخص کی طرح نہیں ہوں، یہ ابوموسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ جناب بندار نے یہ نہیں کہا کہ ” ہاں“۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 735، ومالك فى (الموطأ) برقم: 450، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1237، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1658، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1229، وأبو داود فى (سننه) برقم: 950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4666، 13519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6623»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1237 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1237
فوائد:
نفل نماز میں قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس نماز کا نصف اجر ملے گا۔
لیکن قیام سے عاجز آنے کی صورت میں بیٹھ کر نوافل ادا کرنے سے ثواب میں کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ اسے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
البتہ قیام پر قادر شخص کا بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا صحیح نہیں، اس کا اسے ثواب حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس سے وہ گناہ گار ہوگا۔
(کیونکہ فرض نماز کے لیے قیام واجب ہے) [شرح النووي: 6/12]
نفل نماز میں قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس نماز کا نصف اجر ملے گا۔
لیکن قیام سے عاجز آنے کی صورت میں بیٹھ کر نوافل ادا کرنے سے ثواب میں کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ اسے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
البتہ قیام پر قادر شخص کا بیٹھ کر فرض نماز پڑھنا صحیح نہیں، اس کا اسے ثواب حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس سے وہ گناہ گار ہوگا۔
(کیونکہ فرض نماز کے لیے قیام واجب ہے) [شرح النووي: 6/12]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1237]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1237 in Urdu
مصدع الأسلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي